توانائی بحران، اخراجات کمی، ایچ ای سی کی جامعات کوسخت ہدایات

ملتان (سٹاف رپورٹر)ملک میں بڑھتے معاشی دباؤ، توانائی بحران اور اخراجات میں کمی کے حکومتی اقدامات کے پیش نظر ہائرایجوکیشن کمیشن نے تمام سرکاری و نجی جامعات کے لیے سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کے تحت فوری طور پر یونیورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا نظام تبدیل کرنے، ایندھن کے استعمال میں کمی لانے اور اخراجات کم کرنے کے لیے اہم اقدامات نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹرپروفیسرضیاالحق کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ مراسلے میں ملک بھر کے وائس چانسلرز، ریکٹرز اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکومت کی کفایت شعاری اور ایندھن بچاؤ پالیسی پر’’لفظ بہ لفظ اور روح کے مطابق‘‘فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ یہ اقدامات موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔مراسلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام جامعات فوری طور پر اپنی تمام کلاسز اور تعلیمی سرگرمیاں آن لائن موڈ پر منتقل کریں اور اگلے احکامات تک یہی نظام جاری رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یونیورسٹیوں میں چار روزہ ورک ویک نافذ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کے تحت دفاتر اور انتظامی امور صرف پیر سے جمعرات تک جاری رہیں گے۔ مزید برآں ہدایت دی گئی ہے کہ یونیورسٹیوں میں 50 فیصد تک تدریسی و غیر تدریسی عملے کو باری باری ورک فرام ہوم کی سہولت دی جائے تاکہ توانائی اور ایندھن کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔ اس حوالے سے ہر یونیورسٹی اپنی انتظامی ضروریات کے مطابق طریقہ کار طے کرے گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یونیورسٹیوں کے تمام سندیکیٹ، سینیٹ اور دیگر قانونی و انتظامی اجلاس زیادہ سے زیادہ آن لائن طریقے سے منعقد کیے جائیں تاکہ سرکاری وسائل کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اس نازک وقت میں ملک کا اعلیٰ تعلیمی شعبہ قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور حکومت کی کفایت شعاری مہم میں بھرپور تعاون کرے تاکہ قومی وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ مراسلہ ملک کے تمام سرکاری و نجی جامعات کے سربراہان کو بھجوا دیا گیا ہے جبکہ اس کی نقول وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متعلقہ تعلیمی محکموں کو بھی ارسال کی گئی ہیں، جن میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اعلیٰ تعلیم کے محکمے شامل ہیں۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کے یہ اقدامات معاشی حالات کے تناظر میں اہم قرار دیے جا رہے ہیں، تاہم یونیورسٹی اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو خدشہ ہے کہ بار بار آن لائن نظام اپنانے سے تعلیمی معیار، عملی تربیت اور تحقیقی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق حکومت اورہائرایجوکیشن کمیشن کو اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ آن لائن تعلیم کے دوران طلبہ کو انٹرنیٹ، ڈیجیٹل سہولیات اور تدریسی معیار کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑےورنہ یہ فیصلہ تعلیمی بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں