ای سہولت سینٹر ملتان میں نئی رشوت خوری، موبائل پر رقوم وصول کر کے رجسٹریاں پاس

ملتان (سٹاف رپورٹر) رجسٹری برانچ کے کلرک مافیا اور ای سہولت سنٹر کے عملے نے کمشنر ملتان کی طرف سے مانیٹرنگ کے سخت ہونے اور چیکنگ کے نظام کو مزید فعال کرنے کے باوجود رشوت خوری کا درمیانی راستہ نکال لیا ہے اور اب پرائیویٹ بندوں کے موبائل نمبروں پر پیسے منگوائے جاتے ہیں اور پھر ان کے میسج کو دیکھ کر یہ کنفرم کرنے کے بعد کہ رقم منتقل ہو چکی ہے رجسٹری پاس کرنے کا پروسیس آگے بڑھایا جاتا ہے۔ ای سہولت سنٹر میں حافظ فرقان نامی ایک اہلکار جو کہ پراپرٹی کی ایویلیوشن کرتا ہے اس نے تین مختلف ٹاؤٹ اسی قسم کے رکھے ہوئے ہیں۔ موبائل پر ایزی پیسے کے ذریعے طے شدہ منہ مانگی رقوم ٹرانسفر کی جاتی ہیں اور پھر جتنا گڑ اتنا میٹھا کے مطابق ایویلیوشن ہوتی ہے جبکہ محمد قریشی نامی اہلکار نے دو اسی قسم کے ٹاؤٹ رکھے ہوئے ہیں جن کے اکاؤنٹ میں موبائل ایپس کے ذریعے رقوم ٹرانسفر ہوتی ہیں اور پھر انڈر ویلیو رجسٹریاں کا کام پایا تکمیل تک پہنچتا ہے۔ ان کے علاوہ نچلے درجے کے منور اور انصر نامی دو کلرک جو کہ ضلعی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیںبدستور ٹاؤٹ مافیا کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز تحصیلدار عاصم مشتاق کے عملے کے ایک شخص نے ایک رجسٹری کے عوض 14 ہزار روپیہ طلب کیا اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پیسے ملیں گے تو بیان ہوں گے ورنہ بیان منسوخ کرا دیئے جائیں گے اور میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں