کلثوم پراچہ نے حکومت پالیسی رونددی، کانوکیشن کی تیاری، ایکسٹینشن ناکامی پر ڈپریشن

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی دو دن بعد پرو وائس چانسلرکے عہدے سے فارغ ہونے والی، تین تاریخ پیدائش اور پرائیویٹ کالج کے جعلی تجربے کی بنیاد پر بھرتی ہونے والی غیر قانونی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے جاری کردہ فیول کے بحران اور سرکاری آؤٹ ڈور پر پابندی کی سخت ترین ہدایات کی دھجیاں اڑا دیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت ترین ہدایات بذریعہ پریس ریلیز جاری کی گئی ہیں کہ سرکاری آئوٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پنجاب لیول کے ہارس اینڈ کیٹل شو کا ثقافتی تہوار بھی ملتوی کر دیا گیا ہے مگر خواتین یونیورسٹی ملتان کی پرو وائس چانسلر جن کو کرسی تو 2 دن بعد چھوڑ رہی ہے مگر وہ کرسی کو نہیں چھوڑنا چاہ رہیں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی سخت ترین ہدایات کے باوجود کرسی کی ہوس میں صرف ایک پروفیسر ہوتے ہوئے کانووکیشن کروانے کی ضد کر لی ہے جبکہ 10 ہزار طالبات اور 1000 کے قریب سٹاف اور لوکل اور دوسرے شہروں سے آنے والے مہمانوں کا صرف فیول کی مد میں 2 دن ریہرسل اور کانووکیشن والے دن کا خرچہ 5 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے اور ملک میں جاری فیول کے بحران اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی سخت ترین ہدایات کے بعد صوبہ پنجاب کسی بھی قسم کی آئوٹ ڈور تقریب کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جبکہ وہ 26 مارچ کو نہ تو پرووائس چانسلر رہیں گی اور نہ کسی عہدے پر فائز ہوں گے اور نہ ہی عارضی وائس چانسلر کا عہدہ سنبھال سکیں گے اس کے باوجود ان کی جانب سے تمام غیر قانونی عمل ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا یہ کانووکیشن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ملتوی کیے جانے والے ہارس اینڈ کیٹل شو سے بڑا فنکشن ہے۔ چنانچہ خواتین یونیورسٹی ملتان کی ٹیچرز کمیونٹی اور ملازمین نے کمشنر ملتان سے درخواست کی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے باوجود بھی خواتین یونیورسٹی ملتان کا یہ کانووکیشن ایک پروفیسر کی سربراہی میں منعقد کروایا جاتا ہے تو گورنمنٹ اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ چنانچہ کمشنر ملتان عامر کریم خان سے درخواست ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ، عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار، عارضی خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس اور عارضی کنٹرولر ڈاکٹر حنا علی کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی گورنمنٹ کی رٹ کی خلاف ورزی کی جرات نہ ہو۔ اس بارے میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو لے کر 2 دن سے لاہور کے ٹور پر ہیں تاکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بائی پاس کرتے ہوئے گورنر پنجاب سے اپنی پرو وائس چانسلر شپ کی منظوری کا لیٹر حاصل کر لیں مگر جیسے ہی وہ گورنر پنجاب کے پاس پہنچے تو پتہ چلا کہ وہاں تو ابھی تک سمری پہنچی ہی نہ ہے چنانچہ 2 دن بعد ٹینیور پورا کرنے والی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ان طاقتور شخصیات کے بلند دعوؤں سے شدید ترین مایوسی و ڈیپریشن کی حالت میں بغیر لیٹر کے ہی واپس آ گئیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں