تہران،تل ابیب،واشنگٹن،کراچی (نیوز ایجنسیاں ،سٹاف رپورٹر)ایران میں جا ری جنگ کے 10ویں دن امریکی اور اسرائیلی حملے تاحال جاری ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔ایران نے امریکی فوجی اثاثوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے ہیں، جن میں کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ تیل کی بین الاقوامی قیمتیں بھی بڑھ گئیں، برنٹ کروڈ آئل کی قیمت 119.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور بعد ازاں 112.98 ڈالر پر مستحکم ہوئی، جو عالمی مارکیٹ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر، وزیران اور دیگر سیاسی رہنما نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی حملے میں ایک جنگی جہاز کے عملے کے 104 افراد شہید اور 32 زخمی ہوئے۔قطرمیںدھماکوں کے بعد عوام کو الرٹ جاری، ایرانی میزائلز کو مار گرایا گیا۔سعودی عرب میں شائبہ آئل فیلڈ کے قریب ڈرون کو تباہ کیا گیا، خرج میں دو بنگلادیشی ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔بحرین میںایرانی حملے کے بعد آگ لگی، کوئی جانی نقصان نہیں۔متحدہ عرب امارات: فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلز اور ڈرون کے خطرے پر ردعمل دے رہا ہے۔ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل حملوں کا اعلان کیا، اسرائیلی فوج نے پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا۔ایران کے حملے کے بعد امریکی فوج کے 7 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل نے بیروت کے ضلع غوبیری پر فضائی حملہ کیا، جس کے بعد دھواں اور تباہی کے مناظر دیکھے گئے۔ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ جاری کی کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس کا غیر قانونی استعمال کیا، جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ترکی نے شمالی قبرص میں چھ ایف سولہ طیارے اور فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیے۔ایران کی جانب سے اسرائیل پر کلسٹر بموں سے تازہ حملہ کیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تازہ حملے میں ایک اسرائیل شہری ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی کلسٹر بموں نے اسرائیل کے چھ مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری ایران کا آئینی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین دوسرے ممالک کے داخلی امور میں کسی بھی بہانے سے مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اسی لئے یران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔دوسری جانبپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 148042کی سطح پر آگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکس چینج کا تاریخ کی دوسری بڑی مندی کے ساتھ کاروبار کا اختتام ہوا۔ 100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ 100 انڈیکس کی 11 نفسیاتی سطحیں گرگئیں۔ اسٹاک ایکسچینج میں بدترین مندی کی وجہ سے مارکیٹ کو ہولڈ کردیا گیا تھا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدترین مندی کی وجہ سے کاروبار بھی عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔انڈیکس ٹریڈنگ 9780 پوائنٹس کم ہوکر 1 لاکھ 47 ہزار 715 پوائنٹس کی حد پر روک دی گئی۔ کے ایس ای 30 انڈیکس ٹریڈنگ 3133 پوائنٹس کم ہوکر 45 ہزار 196 پر روک دی گئی۔مزید برآں کے ایس ای 30 انڈیکس ٹریڈنگ منفی 6.93 فیصد پر معطل ہوئی۔ اسٹاک ٹریڈنگ کو ایک گھنٹے کیلئے روک دیا گیا تھا جس کے بعد کاروبار کا دوبارہ آغاز کیا گیا۔ابھی ہنڈریڈ انڈیکس 11725 پوائنٹس کمی سے 145770 کی سطح پر آیا۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 12343پوائنٹس کی مندی ریکارڈ کی گئی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 10242پوائنٹس کی مندی ہے۔ ہنڈریڈ انڈیکس گھٹ کر 1لاکھ 47ہزار 253پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔ہنڈریڈ انڈیکس گھٹ کر 1لاکھ 45ہزار 152پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔ 100 انڈیکس میں 7.84 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا، ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا جو کہ اسٹاک مارکیٹ کی مندی کی بڑی وجہ ہے۔خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں۔ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کے خدشات کیپیٹل مارکیٹ پر اثرانداز ہورہے ہیں۔گزشتہ کاروباری ہفتے کے بعد بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید منفی رجحان رہا اور 100 انڈیکس ایک ہفتے میں 10566 پوائنٹس کم ہو کر157496 پر بند ہوا۔کاروباری ہفتے میں 100 انڈیکس 10217پوائنٹس کے بینڈ میں رہا اور بازار میں 3.28 ارب شیئرز کے سودے 181 ارب روپے میں طے ہوئے، مارکیٹ کیپٹلائزیشن 1231 ارب روپے کم ہوکر 17698 ارب روپے ہوگئی۔





