مظفرگڑھ (رپورٹ :سمعیہ فیض سیال) چوری کا پرچہ درج کروانے کی رنجش پانچ نوجوانوں کو نگل گئی۔نہ ختم ہونے والا خونی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا،ملزمان کے چھوٹو گینگ کے ساتھ اغوا برائے تاوان اور قتل کی وارداتوں میں ملوث اور سزا یافتہ ہونے کا انکشاف،کئی سالوں سے رکا ہوا خونی سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا، ایف اے کے حافظ قرآن طالب علم کو سکول کے گیٹ پر چھٹی کے ٹائم گولی مار کر قتل کر دیا گیا، اہل علاقہ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق 2008 میں غازی گھاٹ بند کے قریب رہائش پذیر کورائی خاندان کا پیٹر انجن چوری ہو گیا تو ڈیرہ غازی خان روڈ کی دوسری طرف آباد گرمانی خاندان سے پولیس نے مدعی غلام یاسین کورائی کی مدعیت میں پرچہ درج کروانے کے بعد قصبہ گجرات کے کباڑیے سے پیٹر برآمد کروا لیا۔ اسی رنجش میں 2008 کے ماہ رمضان کی پہلی تاریخ کو جب غازی گھاٹ قصبہ کی مسجد میں کورائی خاندان کے نوجوان نماز پڑھ کر نکل رہے تھے تو 14 مسلح افراد نے کلاشنکوف ریپیٹرز اور رائفل سے ان پہ دن دہاڑے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو چچا زاد بھائی 23 سالہ بلال ولد خدا بخش اور 24 سالہ ریاض حسین موقع پر ہلاک ہو گئےجبکہ امام بخش والد غلام حیدر،اللہ بچایا ولد امام بخش،شمل ولد غلام قاسم کی ٹانگوں میں فائر کیے گئے اور وہ تینوں آج تک بیساکھیوں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔اس حملے میں مظفر عرف پنی گرمانی،قیصر ولد غلام بخش،حق نواز ولد غلام محمد گرمانی،بلال ولد غلام محمد،منیر ولد غلام محمد،جاوید ولد محمد نواز،عامر ولد رب نواز،فیاز ولد مٹھو،شوکت ولد اللہ یار،ریاض ولد غلام علی سہرانی،حبیب ولد نامعلوم،ارشد ولد منیر سہرانی وغیرہ نے موٹر سائیکلوں پر آکر کلاشن کوف رائفل ریپیٹرز کلہاڑیوں اور پسٹل سے حملہ کیا،اس دوران کورائی خاندان نے گرمانی خاندان کی طرف سے بزدل ہونے کے طعنے سننے کے بعد 2015 اور 16 کے درمیان میں گرمانی خاندان کے2 نوجوانوں کو قتل کر دیا اور اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔مگر اس ماہ رمضان کے پہلے جمعۃ المبارک کو 10 سال بعد دوبارہ گرمانی خاندان کو جنون چڑھا اور غازی گھاٹ ڈڈو موڑ پر واقع بسم اللہ سکول میں ایف اے کے حافظ قران اور تراویح پڑھانے والے نوجوان آصف ولد غلام یاسین کورائی کو سکول کے گیٹ سے نکلتے ہی مین ڈیرہ غازی خان روڈ پر پسٹل سے دائیں پسلی میں فائر مار کر موقع سے فرار ہو گئے جبکہ محمد آصف موقع پر تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہو گیا۔گولی عصمت ولد مظفر عرف پنی نے چلائی جب کہ حماد ولد محبوب گرمانی اور عمیر ولد روشن بھی ہمراہ تھے۔اب پولیس نے عصمت اور حماد دونوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ عمیر ولد روشن تاحال رو پوش ہے۔مقتول محمد آصف کے چچا سردار اللہ بخش کورائی نے ’’قوم‘‘ کو بتایا کہ گرمانی آباؤو اجداد سے جرائم پیشہ لوگ ہیں۔ ملزمان کے قریبی عزیز قیصر گرمانی نے چھوٹو گینگ کے ساتھ مل کر جھنگ سے چار افراد اغوا کیے اور تین کروڑ تاوان لیا۔ پولیس کارروائی میں گرفتار ہو کر 25 سال کی قید کاٹ رہا ہےجبکہ حق نواز گرمانی ولد غلام محمد نے تھانہ روہیلانوالی کے علاقہ میں ایک مرد اور حاملہ خاتون کو قتل کیا اور آج کل ضمانت پر ہے۔ آئے روز علاقے میں ہونے والی ڈکیتیوں میں بھی ان کا نام آتا ہے اور پورا علاقہ اس امر کا گواہ ہے۔







