ڈیرہ: بااثر افراد اور مبینہ سرکاری سرپرستی، منشیات فروشوں کا خوفناک نیٹ ورک فعال

ڈیرہ غازی خان(بیورو چیف،ڈسٹرکٹ رپورٹر) سخی سرورسمیت ضلع ڈیرہ غازی خان میں منشیات کی کھلے عام فروخت سنگین مسئلہ بن گئی۔ خطرناک نشہ وائٹ آئس” اور مختلف
نشہ آور کیپسولز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوان نسل کی زندگیاں تباہی کے دہانے پر پہنچا دی ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں “گبیکا” جیسے نشہ آور کیپسولز کی کھلے عام دستیابی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث ہر گلی محلے میں نوجوان اس لعنت کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق شہر اور گردونواح کے مختلف علاقوں میں یہ نشہ باقاعدہ منظم نیٹ ورک کے ذریعے فروخت کیا جا رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض نام نہاد بااثر افراد اس گھناونے کاروبار میں ملوث بتائے جاتے ہیں جبکہ الزام ہے کہ چند سرکاری ملازمین کی مبینہ سرپرستی میں یہ دھندہ جاری ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے وقت میں پورا معاشرہ اس تباہ کن نشے کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔شہریوں کے مطابق ہسپتالوں، سکولوں کے اطراف اور بعض سرکاری دفاتر کے قریب بھی نشہ آور اشیاء کی فراہمی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جہاں نوجوانوں کو آسانی سے یہ زہریلا نشہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ والدین شدید پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے بچے اس لت میں مبتلا ہو کر تعلیم اور صحت دونوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ سخی سرور کےمقامی لوگوں کے مطابق یہاں سرعام، آئس، چرس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان نسل تیزی سے اس لعنت کا شکار ہو رہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس صورتحال کے باوجود متعلقہ اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں نے مختلف مقامات پر اپنے اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں دن رات نشہ آور اشیاء کی خرید و فروخت جاری رہتی ہے۔ خاص طور پر کم عمر نوجوان اور طلبہ اس کاروبار کا آسان ہدف بن رہے ہیں۔ والدین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل کی نسل شدید تباہی کا شکار ہو سکتی ہے۔سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ منشیات کا یہ کاروبار صرف افراد کو ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔ نشے کی لت کے باعث نوجوان تعلیم، روزگار اور صحت جیسے بنیادی پہلوؤں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔اہلِ علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور علاقے میں مستقل بنیادوں پر کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات، والدین، اساتذہ اور حکومتی ادارے مل کر منشیات کے خلاف جدوجہد کریں۔ اگر آج سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں اس کے اثرات نہ صرف سخی سرور بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں