ملتان(شیخ نعیم)صوبہ پنجاب کی مختلف جیلوں خصوصاً ملتان کی بڑی جیلوں میں مبینہ کرپشن کے انکشافات نے ایک بار پھر محکمہ جیل خانہ جات کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق بعض جیل افسران و اہلکاروں کی جانب سے قید جرائم پیشہ اور خطرناک مقدمات میں ملوث ملزمان کو جیل کے اندر خصوصی سہولیات اور غیر معمولی پروٹوکول فراہم کرنے کے عوض ان کے عزیز و اقارب سے مبینہ طور پر ماہانہ نذرانے وصول کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چند جیلوں میں قید بااثر ملزمان کو عام قیدیوں سے الگ رکھ کر انہیں بہتر کھانے، خصوصی ملاقاتوں اور دیگر سہولیات تک رسائی دی جا رہی ہے۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض اہلکار مبینہ طور پر قیدیوں کے ذریعے بیرونی روابط قائم رکھنے میں معاونت کرتے ہیں، جس کے بدلے خطیر رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض افسران بڑے ہوٹلز میں پرتکلف دعوتوں اور مبینہ رنگین محفلوں میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں، جس سے کرپشن کے تاثر کو تقویت ملی ہے۔ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل جیلوں میں بڑھتی ہوئی مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ارسال کی گئی تھی۔ رپورٹ میں متعدد جیلوں کے حالات، شکایات اور اندرونی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں انکوائری ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں اور بعض جیلوں میں اچانک دورے کیے گئے، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مبینہ کرپشن کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔حالیہ پیش رفت میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر جیل شکایات سیل کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ شہری، قیدیوں کے لواحقین اور دیگر متعلقہ افراد براہِ راست شکایات درج کرا سکیں۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق جیلوں میں کسی بھی قسم کی کرپشن، غیر قانونی سہولت یا اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق شکایات سیکرٹری داخلہ پنجاب کے سیل نمبر 03353675555 اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے سیل نمبر 03353685555 پر درج کرائی جا سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق- موصول ہونے والی شکایات پر متعلقہ جیل افسران و اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ سنگین نوعیت کے الزامات پر اینٹی کرپشن یا دیگر تحقیقاتی اداروں سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیلوں میں شفافیت، قانون کی یکساں عملداری اور قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک کو یقینی بنانے کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ سماجی حلقوں اور ذرائع کا کہنا ہے -کہ اگر جیلوں کے اندر ہی بااثرملزمان کو خصوصی رعایتیں ملیں گی تو قانون کی عملداری متاثر ہوگی اور اصلاحی نظام کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بلکہ جیلوں کے اندر نگرانی کا مؤثر اور جدید نظام بھی متعارف کرایا جائے۔یاد رہے کہ صوبائی حکومت اس سے قبل بھی کرپشن کے خاتمے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے متعدد اقدامات کا اعلان کر چکی ہے، تاہم موجودہ الزامات اس امر کے متقاضی ہیں کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ جیل نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔







