ڈیرہ غازیخان ( کرائم سیل رپورٹ) سب رجسٹرار آفس جام پور میں چند ماہ کے دوران ایک ارب روپے سے زائد ان لینڈ ریونیو ایف بی آر کی مد میں جعلی رسیدیں لگا کر کی جانے والی خوردبرد میں تمام افسران کو بچا کر ایک مبینہ ڈیل کے تحت اس وعدے کے ساتھ اسامہ زید نامی رجسٹری برانچ کے کلرک کو نوکری سے برخواست کرا دیا کہ معاملہ ٹھنڈا ہونے پر اسے بحال بھی کر دیا جائے گا اور پھر اسی طرح سے ہوا اور 80 کروڑ کی خورد برد کا یہ مرکزی کردار بحال بھی ہو گیا۔ جبکہ نیشنل بینک کا کلرک اپنی نوکری سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بتایا گیا ہے کہ
رجسٹری برانچ مافیا نے سابق ڈپٹی کمشنر راجن پور کو غلط انفارمیشن دے کر نہ صرف اسامہ زید کو بحال کرا لیا بلکہ اسے راجن پور ڈپٹی کمشنر آفس میں اسٹیبلشمنٹ برانچ کے انتہائی اہم عہدے پر تعینات بھی کرا دیا ۔ 24-2023ء کے اس میگا فرا ڈ کی انکوائری گزشتہ سال شروع ہوئی جو کہ تاحال مکمل نہ ہوئی ہے اس جعلسازی اور حرام خوری کے مرکزی کردار تحصیلدار ملک فیاض حسین نے اپنی تعیناتی مظفرگڑھ ضلع میں کروا لی ہے اور باخبر ذرائع کے مطابق جام پور والی پریکٹس اب مظفرگڑھ میں جاری ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ موجود اسسٹنٹ کمشنر جام پور ثاقب عدنان کے پاس بھی یہ انکوائری فائلوں کے ڈھیر تلے آ چکی ہے جو صاف ظاہر کرتی ہے کہ موجود اسسٹنٹ کمشنر مبینہ طور بھی 80 کروڑ کے اس فراڈ کی پردہ پوشی کرکے کرپٹ مافیا کی سہولت کاری کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اس انکوائری کو مکمل نہیں کرنا چاہتے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے اب جام پور آبادی دیہہ کی رجسٹریوں کی سرکاری فیس کے علاوہ من مانی کے ریٹ مقرر ہیں جس پر اے سی جام پور کو مسلسل آگاہی کے باوجود پردے ڈال رہے ہیں اور اس رجسٹری مافیا کے کھل کھیل رہا ہے۔ تاہم شہری حلقوں میں اس بارے شدید تشویش پائی جارہی ہے کہ اس میگا سکینڈل کا ڈراپ سین نہیں ہوا تو رجسٹری مافیا مزید دھڑلے سے عوام اور سرکار کو مزید لوٹیں گے،عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ سابقہ کیس اور موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے فوری طور پر انصباطی و محکمہ جاتی کاروائی عمل میں لایا جانا قرین انصاف ہے۔







