ملتان(جنرل رپورٹر)لودھراں کے پٹواری کاشف ظفر کی مزید مشکوک رجسٹریاں سامنے آگئیں۔ حکومت پنجاب کے احکامات کو بھی روندا جانے لگا ۔موضع لودھراں اربن کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے کے باوجود بھی پٹواری کاشف ظفر اور رجسٹری برانچ کا گٹھ جوڑ جاری کروڑوں روپے کا چونا لگایا جانے لگا ۔حالانکہ گورنمنٹ آف پنجاب نے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق مینوئل فرد ملکیت اور مینوئل انتقالات سے روک رکھا تھا لیکن اس کے احکامات لودھراں تک نہیں پہنچ سکے۔ ضلعی انتظامیہ کے لاڈلہ پٹواری کے پاس 8 مواضعات دورہٹہ اربن، دورہٹہ جدید اربن، دورہٹہ غیر اربن، ساندھی والا غیر اربن، ساندھی والا اربن، موضع منڈی، لودھراں اربن اور لودھراں جدید اربن کا چارج ہے۔سکنی کو زرعی،کمرشل کو سکنی اور نان فائلر کو چپکے سے فائلر کرکے حکومتی خزانے کو بے دردی سے لوٹا جارہا ہے اس سے زیادہ’’ قابل‘‘ پٹواری ضلع لودھراں میں دستیاب نہیں ہے۔ لودھراں کاشف ظفر کی مزید مشکوک رجسٹریاں سامنے آگئیں ساندھی والا غیر اربن میں 11620260001327 اور 29 فروخت کنندہ یعنی کہ بائع سیف الرحمان کے خالی پلاٹ، ساندھی والا غیر اربن رجسٹری نمبر 11620260001340 مشتری محمد شہزاد خالی پلاٹ،ساندھی والا اربن مشتری محمد اشرف رجسٹری نمبر 11620260001342 خالی پلاٹ،لودھراں غیر اربن مشتری کلثوم بی بی رجسٹری نمبر 11620260001355 خالی پلاٹ،لودھراں غیر اربن مشتری حسان فرید رجسٹری نمبر 11620260001356 خالی پلاٹ،لودھراں غیر اربن مشتری محمد یسین رجسٹری نمبر 11620260001357 خالی پلاٹ،لودھراں غیر اربن محمد اصغر مشتری 11620260001362 خالی پلاٹ،ساندھی والا غیر اربن مشتری محمد شہباز رجسٹری نمبر 11620260001370 خالی پلاٹ،ساندھی والا غیر اربن محمد سجاد مشتری 11620260001378 خالی پلاٹ،لودھراں اربن سلمی بی بی مشتری رجسٹری نمبر 11620260001380 خالی پلاٹ،لودھراں اربن علیشاء بی بی مشتری رجسٹری نمبر 11620260001381 گورنمنٹ پنجاب کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹواری فرد ملکیت جاری نہیں کریں گے اور جب تک موضع کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کاشف ظفر پٹواری نے موضع لودھراں اربن میں مینول فرد ملکیت جاری کرکے رپورٹ کرتا رہا ہے جو سلسلہ ابھی تک بھی جاری ہے شہری و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کاشف ظفر پٹواری جس کی تعیناتی کو کچھ عرصہ ہی ہوا ہے کہ وہ اتنا قابل ہوگیا ہے کہ سینئر پٹواری کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں جبکہ ایک جونیئر ترین پٹواری کے پاس 8 مواضعات کا چارج سونپ دیا گیا ہے اور اس نے کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنالی ہیں ۔سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب،کمشنر ملتان،ڈپٹی کمشنر لودھراں سے مطالبہ کیا ہے کہ کاشف ظفر پٹواری کے تمام تر رجسٹریوں کی جانچ پڑتال کرکے کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پٹواری کاشف ظفر نے شادی میں نوٹوں کی بارش کردی، ویڈیو وائرل
ملتان(سپیشل رپورٹر)لودھراں میں ہونے والی ایک پُرتعیش شادی کی تقریب اُس وقت موضوعِ بحث بن گئی جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مبینہ طور
پر ضلعی انتظامیہ کے منظورِ نظر سمجھے جانے والے پٹواری کاشف ظفر کو نوٹوں کی بارش کرتے دیکھا جا رہا ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آتے ہی شہر بھر میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں اور سوشل حلقوں میں سوالات کی بوچھاڑ ہو گئی۔ذرائع کے مطابق شادی کی تقریب میں نوٹوں کی بوریاں کھول دی گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سٹیج پر کرنسی نوٹوں کی بارش شروع ہو گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک ہی رات میں لاکھوں روپے نچھاور کیے گئےجبکہ تقریب میں موجود افراد موبائل فونز سے ویڈیوز بناتے رہے جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جب کاشف ظفر پٹواری نوٹوں کی بارش کر رہے تھے تو منچلے نوٹوں کے سائے میں جھومتے، سیلفیاں بناتے اور اس منظر کو خوب انجوائے کرتے دکھائی دیے، یوں تقریب کسی فلمی سین کا منظر پیش کرنے لگی۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیو حقیقی ہے تو یہ سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ آخر ایک سرکاری ملازم اتنی خطیر رقم کس بنیاد پر اس انداز میں لٹانے کی استطاعت رکھتا ہے؟ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، بعض افراد اسے ذاتی خوشی کا اظہار قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے مبینہ طور پر ناجائز دولت کی نمائش سے تعبیر کر رہے ہیں۔شہر کے سنجیدہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام ویڈیو کا نوٹس لیں اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ اگر کوئی بے ضابطگی ہے تو اس کی شفاف تحقیقات ہو سکیں، اور اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو متعلقہ افسر کی ساکھ بحال کی جائے۔واضح رہے کہ اس حوالے سے تاحال پٹواری کاشف ظفر یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم وائرل ویڈیو نے لودھراں کے انتظامی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کی طرزِ زندگی اور مالی شفافیت پر سوالات کیوں جنم لے رہے ہیں؟







