ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے آخری 10 دن میں کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے چوکے چھکے۔ ویمن یونیورسٹی ملتان میں جاری انتظامی بحران اس وقت مضحکہ خیز صورتحال اختیار کر گیا جب عارضی اور غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے ایما پر عارضی رجسٹرار و اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر دیبا شہوار کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مراسلے میں سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسر و خزانچی کو اپنے من پسند غیر قانونی کاموں میں مزید ساتھ نہ دینے پر وضاحتی خط جاری کر دیا اور غیر قانونی کاموں میں مزید رکاوٹ پیدا کرنے کی صورت میں پیڈا کارروائی کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ عوامی اور تعلیمی حلقوں میں اس پر شدید حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ موصوفہ وائس چانسلر خود عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر متعدد بار توہینِ عدالت (Contempt of Court) کے کیسز کا سامنا کر رہی ہیں۔ رجسٹرار آفس سے جاری ہونے والے لیٹر نمبر REG/WUM/26-12 میں جس کمپیٹنٹ اتھارٹی کے غصے اور تشویش کا ذکر کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق وہ دراصل وائس چانسلر نہیں۔ قانونی طور پر سنڈیکیٹ ہی حتمی اتھارٹی ہے، مگر عارضی وائس چانسلر نے خود کو ہی’’کمپیٹنٹ اتھارٹی‘‘ ظاہر کر کے اپنی جونیئر اسسٹنٹ پروفیسر و عارضی رجسٹرار ڈاکٹر دیبا شہوار سے سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسر و خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس کو یہ دھمکی آمیز مراسلہ جاری کروایا ہے۔ مراسلے میں ڈاکٹر طاہرہ یونس کو پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری اور ملازمت سے برطرفی کا جو ڈراوا دیا گیا ہے، اسے یونیورسٹی حلقوں نےانتظامی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک عارضی رجسٹرار و جونئیر اسسٹنٹ پروفیسر اپنے سے سینیئر ایسوسی ایٹ پروفیسر و خزانچی کو کس حیثیت میں پیڈا انکوائری کی دھمکی دے رہی ہے؟ کیا یہ دھمکی اس لیے دی جا رہی ہے کہ ٹریژرر آفس نے وائس چانسلر کی مالی بے ضابطگیوں یا غیر قانونی ادائیگیوں پر اعتراض اٹھایا ہے؟ یونیورسٹی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف وائس چانسلر خود قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہیں اور دوسری طرف سینیئر فیکلٹی کو قانون سکھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ یہ لیٹر دراصل ایک سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ ٹریژرر آفس کو دباؤ میں لا کر من پسند فیصلے کروائے جا سکیں۔ خزانچی آفس کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر طاہرہ یونس اس تضاد آمیز اور غیر قانونی نوٹس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جہاں وائس چانسلر کے اپنے توہینِ عدالت کے کیسز پہلے ہی ان کے لیے گلے کا ہار بنے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ عارضی و غیر قانونی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دور میں پہلے خزانچی ریحان قادر تھے جن پر بعد میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے 43 ویں سنڈیکیٹ میں پیڈا انکوائری لگوائی مگر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی انتہائی قسم کی دھوکہ دہی کے باعث وہ سنڈیکیٹ ہی غیر قانونی قرار دے دی گئی اس کے بعد ڈاکٹر مصباح مرزا کو خزانچی لگایا مگر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا ساتھ نہ دینے پر ان کو بھی اس عہدے سے ہٹا دیا گیا ان کے بعد اسسٹنٹ خزانچی زارہ رفیق کو چارج دیا مگر ساتھ نہ دینے پر ان سے بھی چارج لے لیا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر سارہ مصدق کو خزانچی کا چارج دیا گیا مگر ملازمین کے خلاف کاروائی اور 80 ملازمین کے ایڈوانسڈ انکریمنٹس کی کٹوتی میں ساتھ نہ دینے پر ان کو بھی اس عہدے میں توسیع نہ دی گئی۔ ان کے بعد ڈاکٹر تنزیلہ کو خزانچی کا چارج بغیر پوچھے دیا گیا جنہوں نے وہ چارج قبول کرنے سے انکار کر دیا ان کے بعد انعم جاوید، عربی کی ٹی ٹی ایس ٹیچر ڈاکٹر مکیہ، پھر عشرت میر کو دیا گیا اور ان کے بعد تین چار سینیئر پروفیسرز کو یہ چارج افر کیا گیا جن میں سے کسی نے بھی یہ چارج قبول کرنے سے انکار کر دیا اس کے بعد یہ چارج حالیہ خزانچی ڈاکٹر طاہرہ یونس کو دیا گیا جنہوں نے یہ چارج قبول کرنے سے انکار کیا مگر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ان کی منت سماجت کر کے ان کو اس پر راضی کر لیا مگر چارج سنبھالنے کے بعد خزانچی افس کے چار اسسٹنٹ خزانچی جنہوں نے ڈاکٹر کلثوم پر راجہ پر توہین عدالت کا کیس کیا ہوا ہے کو سبق سکھانے میں ساتھ نہ دینے پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ ڈاکٹر طاہرہ یونس کی بھی دشمن بن گئیں یاد رہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کے دور میں ڈاکٹر طاہرہ یونس کو کنٹرولر کا عہدہ دیا گیا تھا جن کے ٹینیور ختم ہونے کے بعد ڈاکٹر کلثوم پرچہ نے عارضی وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر طاہرہ یونس کو کنٹرولر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور اب رجسٹرار کے ذریعے خزانچی کو وضاحتی لیٹر اور پیڈا انکوائری کی دھمکی بھی دلوا ڈالی کیونکہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے لیے اخری 10 دن گزارنا بہت ہی مشکل ہو رہے ہیں اور اندرونی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طاہرہ یونس نے کانووکیشن کے موقع پر چونکہ کوئی بھی عارضی یا ریگولر وائس چانسلر موجود نہ ہے تو انہوں نے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو کسی بھی قسم کے کانووکیشن کے اخراجات جاری کرنے سے معذرت کر لی ہے اب ڈاکٹر کلثوم براچہ جو کہ کانووکیشن کروانے کے در پے ہیں اس چیز کو انا کا مسئلہ بنا کر انہوں نے ڈاکٹر طاہرہ یونس کو پیڈا انکوائری کی دھمکی دے ڈالی اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہرہ یونس اس دھمکی کے باعث غیر قانونی طور پر کیا کانووکیشن کے اخراجات جاری کر کے اپنے لیے انکوائری کھلوائیں گی یا پھر صاف صاف انکار کر کے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو جواب دے دیں گی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی اس دھمکی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر طاہرہ یونس خود سے اس عہدے سے استعفی دے دیں تاکہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ جنہوں نے ایک اور ٹیچر کو بطور خزانچی منا لیا ہے ان کو چارج دے کر کانووکیشن کے اخراجات جاری کروا سکیں۔







