پی ایس اساتذہ پروموشن کیس: عدالت نے اہم سوالات اٹھادیئے

ملتان (سٹاف رپورٹر) سرکاری جامعات کے بی پی ایس اساتذہ کی پروموشنز سے متعلق اہم اور حساس کیس نے ایک بار پھر قانونی اور تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
نمائندہ تنظیم اپوبٹا کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جہاں عدالتی کارروائی نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دے دیا۔ عدالت میں جمع کرائے گئے جواب اور دلائل میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے کوئی نیا قانونی یا اکیڈمک نکتہ پیش نہ کیا جا سکا۔ کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ بی پی ایس پالیسی ہی درست ہے اور اس میں پروموشن سے متعلق کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق کمیشن کے بیشتر دلائل وہی تھے جنہیں عدالت پہلے ہی مسترد کر چکی ہے جس پر عدالتی حلقوں میں بھی حیرت کا اظہار کیا گیا۔ سماعت کے دوران معزز جج نے پٹیشنرز کے وکیل کو متعدد اہم سوالات کے جوابات آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی۔ ان سوالات میں ماضی میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) کے دور میں بی پی ایس اساتذہ کی پروموشن کا اسٹیٹس، دیگر ممالک میں اساتذہ کی ترقی کا نظام، متعلقہ آرڈیننس کی شقوں کی تشریح اور مستقبل کا ممکنہ لائحہ عمل شامل ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ سوالات کیس کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر سکتے ہیں۔ پٹیشنرز اور ان کے وکلاء نے عدالتی کارروائی کے بعد غیر رسمی گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ سماعت، جو مئی میں متوقع ہے، اساتذہ کے حق میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محض پروموشن کا معاملہ نہیں بلکہ سرکاری جامعات میں ہزاروں اساتذہ کے کیریئر، عزتِ نفس اور پیشہ ورانہ مستقبل کا سوال ہے۔ اس موقع پر پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کی متعدد یونیورسٹیوں کے اساتذہ وفود نے شرکت کی جبکہ کیس کے پٹیشنر ڈاکٹر ضیاءالحق بھی عدالت میں موجود تھے۔ وفود نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس قانونی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کیس اساتذہ کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے تو یہ سرکاری جامعات کے بی پی ایس نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، جبکہ بصورت دیگر اساتذہ میں بے چینی اور اضطراب میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اب نظریں مئی کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ تعلیمی انصاف کا پلڑا کس جانب جھکے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں