نجی ہوٹل، 11 لاکھ یونٹس بجلی چوری معاملے میں نیا موڑ، شہری کا میپکو چیف کو خط، 8 سوال

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) میں 11 کے وی پینل کے ذریعے مبینہ طور پر لاکھوں کمرشل یونٹس کی بجلی چوری اور افسران کی سرپرستی کے الزامات نےنیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ شہری چوہدری ناصر محمود کی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو کو ارسال کیے گئے ایک تفصیلی خط میں ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں جنہوں نے پورے معاملے کو مشکوک
بنا دیا ہے۔ خط میں حوالہ افسر آرڈر نمبر 12-22-13985-89 مورخہ 27 نومبر 2025 بھی درج ہے۔ درخواست گزار کے مطابق انہوں نے مبینہ بجلی چوری کے خلاف باقاعدہ درخواست دی جس پر انکوائری کمیٹی تو تشکیل دی گئی مگر وہ جونیئر افسران پر مشتمل تھی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اتنے بڑے مالی اور انتظامی معاملے کی تحقیقات منسٹری یا کم از کم بورڈ لیول پر ہونی چاہیے تھیںکیونکہ متعلقہ افسران خود ماضی میں اسی شعبے میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ سوالات یہ ہیں۔ 1۔افتتاح کے روز بجلی کی فراہمی کیسے ہوئی؟
2۔خط میں سب سے اہم سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ 4 مئی 2024 کو نجی ہوٹل کے افتتاح کے موقع پر بجلی کہاں سے فراہم کی گئی؟ کیا ہوٹل انتظامیہ نے 11 کے وی فیڈر کے لیے باقاعدہ ڈیمانڈ نوٹس جمع کروایا تھا یا نہیں؟ اگر ڈیمانڈ نوٹس جمع نہیں کروایا گیا تو پھر افتتاح کے روز بجلی کی سپلائی کس بنیاد پر دی گئی؟
3۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خصوصی اجازت کے تحت میسرز طارق الیکٹرک پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور سے 11 کے وی پینل خریدا گیا اور اس کی انسپکشن چیف انجینئر میٹریل انسپکشن پی پی ایم سی لاہور نے کی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس پینل کو باضابطہ کوڈ یا ریفرنس نمبر الاٹ کیا گیا؟ کیا مارچ 2024 میں نصب اور انرجائز کیے گئے اس پینل کی بلنگ کی گئی؟ اگر بلنگ کی گئی تو مارچ 2024 سے جولائی 2025 تک کا مکمل ریکارڈ کہاں موجود ہے؟
4۔درخواست گزار کے مطابق 12 نومبر 2024 کو پینل کی ریڈنگ 9 لاکھ 25 ہزار 853 یونٹس تھی جبکہ بعد ازاں میٹر ریڈنگ 10 لاکھ 41 ہزار 708 یونٹس تک جا پہنچی۔ سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ ان لاکھوں یونٹس کی بلنگ کہاں ہے؟ کیا یہ یونٹس سسٹم میں درج ہوئے یا ریکارڈ سے غائب ہو گئے؟
5۔خط میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ جب ملزمان کے باہمی اختلافات کے باعث معاملہ منظر عام پر آیا تو پہلے نصب شدہ 11 کے وی پینل کو مبینہ طور پر غائب کر دیا گیا اور اسی کمپنی سے دوسرا پینل خرید کر نصب کر دیا گیا۔ درخواست گزار نے سوال اٹھایا ہے کہ جس پینل کو چوری ظاہر کیا گیا اس کی ایف آئی آر دوسرے پینل کی تنصیب سے پہلے درج کی گئی یا بعد میں؟ اور کیا اتنی حساس جگہ سے 11 کے وی پینل کا غائب ہونا ممکن ہے؟۔
6۔خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ فروری 2024 میں متعلقہ 11 کے وی فیڈر کے لائن لاسز 9 فیصد تھے جو بعد ازاں بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گئے۔ درخواست گزار کا سوال ہے کہ یونٹس ریسیوڈ اور یونٹس سولڈ کے درمیان اتنا بڑا فرق میپکو افسران کو کیوں نظر نہ آیا؟ اگر نظر آیا تو کارروائی کیوں نہ کی گئی؟۔
7۔مزید یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ دونوں 11 کے وی پینلز کی انسپکشن چیف انجینئر کی جانب سے ایک ہی لیٹر کے تحت کیوں کی گئی؟ کیا یہ معمول کی کارروائی تھی یا کسی بے ضابطگی کو قانونی شکل دینے کی کوشش؟۔
8۔درخواست گزار کے مطابق پہلے 11 کے وی پینل کے لیے ڈیمانڈ نوٹس ایک مخصوص افسر نے بطور چیف ایگزیکٹو انجینئر جاری کیا جبکہ دوسرے پینل کے لیے بطور جنرل مینیجر ٹیکنیکل کیا کارروائی کی گئی؟ کیا دونوں مراحل قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل ہوئے یا نہیں؟۔
چوہدری ناصر محمود نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر میپکو نے جونیئر افسران پر مشتمل کمیٹی سے کوئی رپورٹ تیار کروائی ہے تو اس کی مصدقہ کاپی فراہم کی جائے تاکہ وہ قانونی اور انتظامی سطح پر مناسب فورم سے رجوع کر سکیں۔
اس پورے معاملے نے میپکو کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ لاکھوں یونٹس کی مبینہ گمشدگی، 11 کے وی پینل کی تبدیلی، لائن لاسز میں غیر معمولی اضافہ اور بلنگ ریکارڈ کی عدم دستیابی جیسے نکات اب باقاعدہ تحقیقات کے متقاضی ہیں۔ شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس حساس معاملے کی منسٹری پاور ڈویژن اور ایف آئی اے کے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی سے شفاف انکوائری کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں