ویمن یونیورسٹی ملتان: وی سی کی ریٹائرمنٹ کے “دسویں” پر کانووکیشن کی صدارت متنازع

ملتان (سٹاف رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں ایک نیا اور ہنگامہ خیز انتظامی بحران سر اٹھا رہا ہے جہاں مبینہ طور پرجعلی و غیر قانونی پرو وائس چانسلر و عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ شوکاز نوٹس موصول ہونے کے باوجود 26 مارچ 2026 کو منعقد ہونے والے کانووکیشن جیسے بڑے اور حساس انتظامی معاملے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ان کی مدتِ تعیناتی 16 مارچ 2026 کو ختم ہو رہی ہے تو وہ 10 دن بعد ہونے والے کانووکیشن کی نگرانی کس اختیار کے تحت کر رہی ہیں؟ دستاویزی شواہد کے مطابق 17 جنوری 2026 کو رجسٹرار آفس کی جانب سے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو ایک خط ارسال کیا گیا جس میں واضح طور پر لکھا گیا کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی بطور پرو وائس چانسلر تین سالہ مدت 16 مارچ 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ خط میں ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے نئی نامزدگی کے لیے چانسلر کی منظوری حاصل کرنے کی استدعا کی گئی۔ تاہم تاحال نئی نامزدگی عمل میں نہیں آ سکی۔ قانونی ماہرین کے مطابق جب مدت ختم ہو جائے تو نہ صرف پرو وائس چانسلر کا عہدہ از خود ختم ہو جاتا ہے بلکہ وہ عارضی وائس چانسلر کا چارج بھی برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ ایسے میں 26 مارچ 2026 کو ہونے والے کانووکیشن کی تیاری اور اس کی صدارت کے دعوے قانونی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے براہِ راست گورنر پنجاب (بحیثیت چانسلر) سے ملاقات کی اور کانووکیشن کی صدارت کے لیے نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ چانسلر کو اس امر سے مکمل آگاہ نہیں کیا گیا کہ 16 مارچ کے بعد وہ پرو وائس چانسلر نہیں رہیں گی۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نہ صرف انتظامی بددیانتی بلکہ چانسلر آفس کو گمراہ کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ صورتحال مزید سنگین اس لیے بھی ہے کہ یونیورسٹی میں اس وقت نہ کوئی ریگولر وائس چانسلر موجود ہے اور نہ ہی 26 مارچ تک کسی عارضی وائس چانسلر کی تقرری یقینی بنائی گئی ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کانووکیشن کی صدارت کون کرے گا؟ کیا ایک ایسی شخصیت جو 10 دن قبل اپنے عہدے سے فارغ ہو چکی ہو، وہ اس تقریب کی سربراہی کر سکتی ہے؟ ادھر طالبات سے کانووکیشن فیس کے نام پر رقوم وصول کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ مزید برآں ڈپٹی رجسٹرار محمد شفیق نے ایک نجی دیہی دکاندار کو ریہرسل اور کانووکیشن کے روز طالبات کو گاؤن مہیا کرنے کے لیے واحد اسٹال لگانے کی “لائن سیٹ” کر دی ہے، جس سے شفافیت پر مزید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی مسلسل خاموشی صورتحال کو مزید ابہام اور بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اگر بروقت واضح فیصلہ نہ کیا گیا تو نہ صرف کانووکیشن کی آئینی حیثیت متنازع ہو سکتی ہے بلکہ دی جانے والی ڈگریوں کی قانونی ساکھ بھی سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔ اب نظریں صوبائی حکومت اور چانسلر آفس پر جمی ہیں کہ آیا وہ اس مبینہ انتظامی بے ضابطگی کا فوری نوٹس لیتے ہیں یا پھر 26 مارچ کا دن ایک نئے تعلیمی سکینڈل کی تاریخ رقم کرے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں