بہاولپور( کرائم سیل) تھانہ عباس نگر کی حدود لال سوہانرا میں خطرناک غنڈہ عناصر کی جانب سے “چڈی پلس” فیس بک آئی ڈی کو وجہِ عناد بنا کر نوجوانوں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمات میں مقامی پولیس کی جانب سے ملزمان کی مبینہ مکمل سہولت کاری کی وجہ سے انہیں بڑا ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ مرکزی ملزم سجاول حسین سمیت متعدد ملزمان تاحال پولیس کی گرفت سے دور ہیں۔اغوا اور تشدد کے مقدمے میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور دیگر مالِ مقدمہ تاحال برآمد نہیں کیا جا سکا۔ مزید برآں نامزد ملزم آصف کی جانب سے ایک آڈیو میں مدعیان کو صلح نہ کرنے کی صورت میں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینے کی آڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے۔ اہلِ علاقہ نے مقامی پولیس پر سہولت کاری اور ملزمان کو ریلیف دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے سی سی ڈی سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل لال سوہانرا کے رہائشی اغوا اور تشدد کے مقدمے کے مرکزی ملزم سجاول حسین ولد امیر قوم سید جس نے جرائم پیشہ افراد کی مدد سے ایک گروہ بنا رکھا ہے، جس میں علاقے کے درجنوں نوجوان شامل ہیں جنہوں نے علاقے میں مبینہ طور پر غنڈہ راج قائم کر رکھا ہے۔ چند روز قبل لقمان اور محمد احمد کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی ویڈیوز بھی بنائی جاتی رہیں۔ڈی پی او بہاولپور کے حکم پر مقامی پولیس عباس نگر نے افسران کے احکامات پر دو مقدمات تو درج کر لیے، مگر 72 گھنٹے گزر جانے کے باوجود نہ واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ، نہ موٹر سائیکل اور نہ ہی موبائل فون برآمد کیے جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق دو گرفتار ملزمان، مرزا فراز اور اعظم، کی ضمانتوں میں بھی مبینہ طور پر بھاری رقوم کے عوض سہولت کاری کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک مقدمے میں ملزمان کی ضمانت منظور ہو گئی۔ حالانکہ دفعہ 367 ت پ کے تحت درج مقدمے میں ملزمان کی فوری ضمانت ہونا پولیس کی نااہلی اور مبینہ میل ملاپ کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پولیس ذرائع نے ضمانتوں کی تصدیق نہیں کی۔ابھی تک مرکزی ملزم سجاول حسین اور دیگر ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔ اغوا، تشدد اور ویڈیو بنانے کے مقدمات میں ملزمان کا مؤقف ہے کہ متاثرہ افراد احمد اور لقمان نے فیس بک پر “چڈی پلس” کے نام سے آئی ڈی بنا رکھی تھی، جس پر وہ نہ صرف ان کی بلکہ ان کے بزرگوں کی بھی کردار کشی کرتے تھے، اسی وجہ سے انہیں مارا گیا۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ملزمان نے متاثرین کو اغوا کر کے نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ زبردستی ویڈیو میں معافی منگوائی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بہاولپور پولیس ان ملزمان کے خلاف کیا مؤثر کارروائی کرتی ہے یا یہ کیس سی سی ڈی اپنے ہاتھ میں لے کر منطقی انجام تک پہنچاتی ہے۔







