پنجاب: فروری قیامت خیز، ٹریفک حادثات اور دل کے دورے بے قابو، 5936 اموات

ملتان (ناصر محمود شیخ سے) حکومت پنجاب کے تمام تر حفاظتی اقدامات، ترغیبات اور جرمانوں کے باوجود صوبے بھر میں حادثات میں ہونے والے انسانی جانوں کے نقصان میں نمایاں کمی نہ لائی جا سکی۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق فروری کے 28 دنوں میں صوبہ پنجاب میں ریسکیو 1122 کی 867 ایمبولینسز نے 5936 انسانی لاشیں اٹھائیں۔ مرنے والوں میں 5115 افراد طبی موت کا شکار ہوئے جن میں سب سے زیادہ افراد دل کے دورے سے دنیا چھوڑ گئے جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی مرنے والوں میں شامل ہے۔ مجموعی طور پر فروری کے دوران ٹریفک حادثات میں 410 افراد کی ہلاکت ہوئی اور سب سے زیادہ 40 افراد لاہور کی سڑکوں پر دنیا چھوڑ گئے۔ ضلع مظفر گڑھ میں ٹریفک حادثات میں 28 دن میں 28 اموات رپورٹ ہوئیں۔ ریسکیو 1122 جیسے لوگوں کے دکھ درد میں ہر پل شانہ بشانہ رہنے والے ادارے نے فروری 2026 کے دل ہلا دینے والے اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ 867 ایمبولینسز نے 1 لاکھ 87 ہزار 767 ایمرجنسی کالز پر بروقت رسپانس کیا۔ سب سے زیادہ میڈیکل ایمرجنسی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 5115 لوگ جان کی بازی ہار گئے جبکہ 60436 کی حالت سیریس ہے جو ہسپتالوں اور گھروں کے بستروں پر موجود ہیں۔ دل کے دورے کے سب سے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کی اکثریت دل کے امراض کا شکار ہو رہی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں مارے جانے والے 410 افراد میں سے سب سے زیادہ لاہور کی سڑکوں پر مارے گئے ۔ پنجاب میں ایک ماہ کے 37988 ٹریفک حادثات میں 19773 افراد شدید زخمی ہوکر بستروں پر منتقل ہوچکے ہیں ۔پولیس نے حادثات کی روک تھام کے لئے چالانوں کی بھرمار کرکے اربوں روپے کا ریونیو تو ضرور اکٹھا کیا لیکن حادثات کی روک تھام کی کوئی پلاننگ نہیں کی۔ زیادہ تر ٹریفک حادثات عصر اور صبح فجر کے درمیان ہوئے جب ٹریفک پولیس کی اکثریت چالان کرکے گھروں کو چلی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایک ماہ کے لئے ٹریفک پولیس رات کی ڈیوٹی دے اور بغیر ہیڈ لائٹس و تیز رفتار ڈرائیورز کے خلاف کریک ڈائون کرے تو حادثات میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔ کرنٹ لگنے کے واقعات میں 43 افراد کی اموات اور پانی میں ڈوب کر 23 افراد کی اموات ہوئیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں