ملتان ( ایڈیٹر لیگل سیل) پنجاب میں ججز کی کمی کے باعث زیر التواء مقدمات کی تعداد 16 لاکھ ہو گئی۔ لاہور ہائیکورٹ میں 18 ججز اور پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں 839 ججز کی اسامیاں خالی ہیں۔ تقریباً 2 لاکھ مقدمات لاہور ہائیکورٹ میں زیر التواہیں جبکہ 14 لاکھ سے زائد مقدمات پنجاب کی ضلعی و تحصیل عدالتوں میں زیر التواہیں۔ وکلا تحریک کی کامیابی کے بعد سال 2009ء سے مقدمات کی ڈائری میں اضافے کے ساتھ مقدمات نمٹانے کے لئے تیز ترین اقدامات بھی عمل میں لائے گئے لیکن ججز کی تعداد میں کمی کے باعث زیر التوا مقدمات میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں اس وقت ججز کی تعداد 42 ہے جبکہ طے شدہ تعداد 60 ہے، لیکن یہ تعداد آج کے دن تک کبھی بھی پوری نہیں کی جا سکی ہے۔ اس طرح لاہور ہائیکورٹ کو اس وقت 18 ججز کی کمی کا سامنا ہے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان کی سال 2025ء کی آخری رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں ایک لاکھ 88 ہزار 77 مقدمات زیر التواء ہیں۔ اسی طرح لاہور ہائیکورٹ کے 3 مارچ 2026ء کو اپ ڈیٹ کئے گئے پرفارمنس انفارمیشن سسٹم کے اعداد وشمار کے مطابق پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں 14 لاکھ 18 ہزار 389 مقدمات زیر التواء ہیں اور مقدمات دائر ہونے کی نسبت 77.22 فیصد کم مقدمات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس تعداد میں ایک لاکھ 69 ہزار 174 مقدمات سیشن عدالتوں جبکہ 12 لاکھ 49 ہزار 215 مقدمات سول عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ سیشن عدالتوں میں مقدمات دائر ہونے کی نسبت 21.94 فیصد کم جبکہ سول عدالتوں میں مقدمات دائر ہونے کی نسبت 101.4 فیصد کم فیصلے کئے گئے۔ لاہور ہائیکورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی پنجاب کے مرکز ملتان میں اس وقت ڈسٹرکٹ/ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی منظور شدہ 26 اسامیوں پر 20 ججز تعینات ہیں اور 6 ججز کی اسامیاں خالی ہیں، جبکہ سینئر/سول ججز/فیملی کورٹ کی 94 منظور شدہ اسامیوں پر صرف 53 ججز تعینات ہیں اور 41 اسامیاں خالی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع مظفرگڑھ کی سیشن کورٹ میں 8، سول کورٹ میں 28، بہاولپور کی سیشن کورٹ میں 4، سول کورٹ میں 21، وہاڑی کی سیشن کورٹ میں 7، سول کورٹ میں 32، لودھراں کی سیشن کورٹ میں 2، سول کورٹ میں 10، خانیوال کی سیشن کورٹ میں 5، سول کورٹ میں 23، ڈی جی خان کی سیشن کورٹ میں 6، سول کورٹ میں 17، رحیم یار خان کی سیشن کورٹ میں 9، سول کورٹ میں 32، راجن پور کی سیشن کورٹ میں ایک، سول کورٹ میں 7، لیہ کی سیشن کورٹ میں 3، بہاولنگر کی سیشن کورٹ میں ایک، سول کورٹ میں 20، بھکر کی سیشن کورٹ میں ایک، سول کورٹ میں 8 اسامیاں خالی ہیں۔ صوبہ کے باقی شہروں کی سیشن و سول عدالتوں میں ججز کی مجموعی طور پر منظور شدہ تعداد کے مطابق لاہور میں 109، ساہیوال میں 34، سرگودھا میں 22، جھنگ میں 34، پاکپتن میں 14، خوشاب میں 5، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 8، راولپنڈی میں 27، اٹک میں 2، چکوال میں 9، چنیوٹ میں 15، فیصل آباد میں 68، گوجرانولہ میں 32، گجرات میں 16، حافظ آباد میں 5، جہلم میں 3، قصور میں 5، منڈی بہاوالدین میں 13، میانوالی میں 10، ننکانہ صاحب میں 24، نارووال میں 6، اوکاڑہ میں 33، شیخوپورہ میں 22، سیالکوٹ میں 35 ججز کی اسامیاں خالی ہیں۔







