ملتان (عوامی رپورٹر) رجسٹری برانچ میں اربوں روپے کی سالہا سال سے جاری کرپشن، ٹیکسوں میں ہیر پھیر اور غبن کے معاملے میں بدنام پرائیویٹ مافیا کے سرغنہ وثیقہ نویس ملک واجد رضا اور ان کے بھائی ملک ماجد رضا کو اینٹی کرپشن حکام نے چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا، ملزمان سے لیپ ٹاپ، رجسٹریاں اور سرکاری دستاویزات برآمد، عدالت نے ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اینٹی کرپشن کے حوالے کر دیا۔ ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ نے کرپٹ عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے انہیں ہر صورت قانون کی گرفت میں لانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ ان کی ہدایات کی روشنی میں ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان بشارت نبی کی خصوصی نگرانی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹیگیشن ظہیر احمد نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے رجسٹری برانچ کرپشن سکینڈل کے مرکزی کردار و پرائیویٹ مافیا کے سرغنہ ملک محمد واجد رضا اور ملک محمد ماجد رضا کو گذشتہ روز مقدمہ نمبر 1917/25 میں گرفتار کر لیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان مختلف رجسٹریوں میں سرکاری فیسیں جمع کروائے بغیر رجسٹریاں پاس کرواتے اور جعلی ریکارڈ مرتب کرتے رہےجس کے نتیجے میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا جبکہ ملزمان غیر قانونی طور پر بھاری رقوم حاصل کرتے رہے، ملزمان مبینہ طور پر سب رجسٹرار اور ریونیو افسران کی تعیناتیوں پر اثرانداز ہونے کے دعوے کرتے ہوئے سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے، کمشنر ملتان عامر کریم خاں کی جانب سے رجسٹری برانچ پر اچانک چھاپے کے دوران بھی مذکورہ ملزمان کا نام سرفہرست سامنے آیا تھا۔ اینٹی کرپشن ٹیم نے دونوں ملزمان کو باضابطہ گرفتار کرکے حوالات میں منتقل کر دیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے، ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، تاہم عدالت نے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا تاکہ مزید تحقیقات کے دوران یہ تعین کیا جا سکے کہ کتنی رجسٹریاں غیر قانونی طور پر پاس کی گئیں اور مجموعی طور پر کتنی رقم وصول کی گئی۔ حکام کے مطابق یہ ایک میگا کرپشن سکینڈل ہے جس کے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔اینٹی کرپشن حکام کے مطابق حکومت پنجاب کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور وثیقہ نویس کیس میں ملوث تمام افراد، بشمول وثیقہ نویسوں اور ریونیو افسران، کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جہاں بھی کرپشن کی نشاندہی ہوگی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔اینٹی کرپشن کی کارروائیاں کسی صورت کم نہیں ہوں گی اور ٹیمیں 24 گھنٹے متحرک رہتے ہوئے کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گی۔







