ملتان (سٹاف رپورٹر) ممبر سینڈیکیٹ خواتین یونیورسٹی ملتان و چیئرمین ملتان بورڈ و کمشنر ملتان سیکرٹری ملتان بورڈ کے ذریعے خواتین یونیورسٹی ملتان کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی وائس چانسلر و پرو چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو 2 بار شو کاز
جاری کر چکے ہیں جن کا ڈاکٹر کلثوم پراچہ نےجواب دینے اور روز مرہ کے امور دیکھنے کی بجائے ایک بار پھر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سینڈیکیٹ کے 45ویں اجلاس کے ایڈوانس ایجنڈا کی بذریعہ سرکولیشن منظوری کے لیے تمام ممبران سینڈیکیٹ کو درخواست دے دی۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ جنہوں نے تین تاریخ پیدائش رکھی ہوئی ہیں ایک کے مطابق وہ 2024 میں ریٹائر ہو چکی ہیں۔ دوسری کے مطابق 2026 میں ریٹائر ہو جائیں گی اور تیسری کے مطابق وہ 2028 میں ریٹائر ہوں گی۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کا پرو وائس چانسلر کا غیر قانونی ٹینیور 16 مارچ 2026 کو ختم ہونے والا ہے اور چونکہ اس تاریخ کے بعد وہ پرو چانسلر کے عہدے سے فارغ ہو جائیں گی تو وہ کسی بھی صورت میں عارضی وائس چانسلر بھی نہ رہ سکیں گی۔ چنانچہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے دو ماہ قبل ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو پرو وائس چانسلر کے عہدے کے لیے تین نام بھیجے تھے جن میں انہوں نے پہلا نام خود اپنا رکھا جب کہ دوسرا نام ڈاکٹر قمر رباب کا اور تیسرا نام ڈاکٹر حنا علی کا لکھ کر بھیجا جبکہ عارضی و غیر قانونی وائس چانسلر و پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اپنے نام کی سفارش خود کیسے کر سکتی ہیں یہ بذات خود ایک مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ سب سے اہم بات کہ انہوں نے اس سفارش میں اپنے اوپر لگنے والے کسی الزام اور شواہد کا ذکر نہیں کیا جس میں ان کی تین تاریخ پیدائش، جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹ، گرینڈ گالا، سیرت کانفرنس اور سیلاب فنڈ میں کروڑوں روپے کی خوردبرد اور کرپشن شامل رہی جبکہ حیران کن طور پر انہوں نے ڈاکٹر قمرر باب کے خلاف پورے کا پورا الزامات پر بھرپور ایجنڈا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بھیجا جس میں انہوں نے ان کے خلاف پیڈا انکوائری کا ذکر کیا جبکہ حیران کن طور پر جس سینڈیکیٹ میں پیڈا انکوائری ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی جانب سے لگوائی گئی تھی وہ سنڈیکیٹ ہی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی دھوکہ دہی کے باعث ختم کر دی گئی تھی۔ تیسرے نمبر پر ڈاکٹر حنا علی کا نام بھیجا گیا جس میں ڈاکٹر حنا علی کے اوپر بھی مختلف الزامات کا ذکر کیا گیا چنانچہ انہوں نے صرف خود کو ہی پرو وائس چانسلر کے عہدے کے لیے بھرپور امیدوار کے طور پر نامزد کرتے ہوئے یہ تین نام بھیجے تھے تاکہ باقی دو نام روایت کے طور پر شامل کیے جا سکیں۔ یاد رہے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اس سے پہلے بھی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو متعدد بار سنڈیکیٹ کروانے اور لانگ ٹرم مالیاتی فیصلے کرنے سے روک چکا ہے اور اس بارے میں شوکاز نوٹس بھی جاری کر چکے ہیں مگر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ان شوکاز نوٹسز کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور نہ ہی ان کا جواب دینا گوارا سمجھا اور پھر اب انہوں نے سینڈیکیٹ کے 45 ویں ایجنڈے کے ایڈوانس ایجنڈے کی منظوری کے لیے ممبران سنڈیکیٹ کو لیٹر لکھ دیا ہے جس پر کمشنر ملتان ڈویژن نے اس پر انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کلثوم پر اچہ کو کوئی بھی سینڈیکیٹ کرنے سے منع کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے سینڈیکیٹ منعقد کرواتی ہیں جس میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ، ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان، لاء ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور کمشنر ملتان ڈویژن کو بائی پاس کر کے کرواتی ہیں یا پھر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اپنی اتھارٹی قائم کرنے میں کوئی رد عمل دے سکتی ہے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو یہ بھی ڈر ہے کہ اگر نئی وائس چانسلر ریگولر تعینات ہو گئیں یا ان کا پرووائس چانسلر کا عہدہ ختم ہو جاتا ہے تو ان کے خلاف انکوائریوں کا ایک پلندہ شروع ہو جائے گا جس میں ان کے خلاف کروڑوں روپے کی ریکوری بھی ہو گی۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ جن کے پاس 2024, 2026 اور 2028 تین تاریخ پیدائش موجود ہیں۔ ان کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کسی بھی طور پر رعایت دیتے ہوئے بھی پرو وائس چانسلر تعینات نہیں کر سکتی کیونکہ 2024 میں ریٹائر ہونے والی ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی تیسری تاریخ پیدائش 2028 کے مطابق بھی ان کی بقایا سروس 2 سال چند ماہ بچتی ہے جبکہ پرو وائس چانسلر کا عہدہ 3 سال کا ہوتا ہے تو ان کی بطور پرو وائس چانسلر تعیناتی نا ممکن ہے جب تک تین تاریخ پیدائش رکھنے والی ڈاکٹر کلثوم پراچہ اپنی تاریخ پیدائش ایک بار پھر تبدیل نہ کروا لیں۔







