بچ ولاز توسیعی سکیم میں ساز باز، ری وائز کے نام پر ایم ڈی اے کو 50 کروڑ نقصان

ملتان (سپیشل رپورٹر)بوسن روڈ پر موضع بچ میں واقع بُچ ایگزیکٹوولازکے مالکان نے ڈائریکٹر جنرل ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے مبینہ ساز باز ہو کرہائوسنگ منصوبہ میں نئے توسیع منصوبہ کے تحت جمع کروانے کے بجائےموجودہ منصوبہ کی Revised Scheme کے طور پر ایم ڈی اے کے اربن پلاننگ ڈائریکٹوریٹ میں کیس جمع کروا دیا،476 کنال رقبہ پر مشتمل ہائوسنگ کالونی کے توسیعی منصوبہ کے غیر قانونی طریقہ سے پاس ہونے پر محکمہ کو پچاس کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے،قانون کے مطابق توسیعی منصوبہ میں صرف موجودہ منصوبہ کا دس فیصد رقبہ ہی شامل ہو سکتا تھامگر 476 کنال رقبہ کی بجائے نئی سکیم منظور کروانے کےلئے مبینہ ملی بھگت کر کے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور قوانین کے برعکس اسکی منظوری لی جائے گی۔تفصیل کے مطابق ملتان ترقیاتی ادارہ کے شعبہ اربن پلاننگ ڈائریکٹوریٹ ہائوسنگ کالونی مالکان کے ساتھ مل گئے،معلوم ہوا ہے کہ موضع بُچ میں واقع نجی ہائوسنگ سوسائٹی کے مالکان نے ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے راشد ارشاد سے مبینہ ڈیل کر لی ہے جس کے بعد ہائوسنگ کالونی میں غیرقانونی طریقہ سے توسیع کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ نجی ہائوسنگ سوسائٹی مالکان نے 476 کنال رقبہ کی توسیع کا منصوبہ بناتے ہوئے کیس ایم ڈی اے میں جمع کروا دیا۔توسیع کا کیس موجودہ سکیم کو Revise کرنے کے لیے جمع کروایا گیا ہےجس کی قانون اجازت نہیں دیتا مگر ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے کی جانب سے اس توسیعی منصوبہ کو Revise Scheme کے طور پر منظور کرنے کے لیے زور دیا جا رہا ہےجبکہ قوانین کے مطابق موجودہ سکیم کے کل رقبہ کا صرف دس فیصد رقبہ کا کیس ہی Revise Scheme کے طور پر منظور کیا جا سکتا ہے مگر بُچ ولاز کالونی مالکان مبینہ ساز باز کر کے سرکاری خزانے کونقصان پہنچاتے ہوئے 476 کنال رقبہ کی توسیع کا نیا کیس جمع کروانے کے بجائے پچھلی منظوری میں ہی اسکو شامل کروانا چاہتے ہیں تاکہ پبلک یوٹیلیٹی کے پلاٹ نہ چھوڑنے پڑیں اور واسا کا ساڑ ھے نو کنال رقبہ چھوڑنے کے بچائے صرف چار کنال او رچند مرلے ہی چھوڑنا پڑے گاجبکہ واسا اور دیگر محکموں کے این او سی نہ حاصل کرنے پڑیں اور فیس کی مد میں بھی کروڑوں روپے بچائے جا سکیں۔ سرکاری قوانین کے مطابق نئے منصوبہ کی منظوری کے لئے جو رقبہ کنالوں میں چھوڑنا ہوتا ہے سکیم کو revise کرانے پر مالک کو چند ایک مرلے چھوڑنے پڑتے ہیں۔ اس منصوبہ میں کالونی مالک کو پچاس کروڑ روپے سے زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے اور سرکاری خزانے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔اس صورتحال میں ایم ڈی اے افسران بھی پریشانی سے دوچار ہیں کہ ان پر غیرقانونی کام کرنے کےلئے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔اس حوالے سے یکم جنوری کو ایک میٹنگ بھی ہو چکی ہے جس میں یہ اعتراضات سامنے لائے گئے ہیں۔عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس غیرقانونی عمل کو بروقت روکیں اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب،وزیراعلیٰ پنجاب کمپلین سیل،ڈی جی نیب نیب ،ڈائریکٹر اینٹی کرپشن،چیئرمین سی ایم آئی ٹی اور دیگر حکام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایم ڈی اے میں جاری کروڑوں روپے مالیت کی بدعنوانی کا سرکاری آڈٹ کروایا جائے۔اس حوالے سے ایم ڈی اے حکام نے کہا کہ فائل جمع ہے سکروٹنی کے بعد فیصلہ ہو گا کہ اس کیس میں منظوری دی جا سکتی ہے یا نہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں