ملتان ( وقائع نگار) جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی جامعہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایک بار پھر شدید انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ گئی ہے۔ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کے باقاعدہ منٹس (4/2015) میں واضح پالیسی فیصلہ موجود ہے کہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کی پروموشن صرف اور صرف سلیکشن بورڈ کی سفارش کے ذریعے ہی ممکن ہوگی جبکہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کا یونیورسٹی ایکٹ میں کوئی تصور موجود نہیں۔ اس کے باوجود حالیہ ترقیوں میں مبینہ طور پر انہی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ سینڈیکیٹ کے 19 اور 20 دسمبر 2015 کو منعقدہ اجلاس میں واضح طور پر قرار دیا گیا تھا کہ BS-17 سے اوپر تمام پروموشن کیسز سلیکشن بورڈ کے ذریعے پیش کیے جائیں گے۔ پنجاب پروموشن پالیسی کو اپنایا جائے گا۔ سینیارٹی کا تعین لازمی قرار دیا گیا۔ اس کے برعکس حالیہ ترقیوں میں ان فیصلوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چند مخصوص افراد کو فائدہ پہنچایا گیا۔ مزید رجسٹرار اعجاز احمد مبینہ طور پر ایک سال سے زائد عرصے سے اضافی چارج پر تعینات ہیں حالانکہ سپریم کورٹ میں دائر کیس نمبر 07/2024 میں واضح حکم دیا گیا تھا کہ کسی بھی افسر کو چھ ماہ سے زائد اضافی چارج نہیں دیا جا سکتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ حکم ملک بھر کے سرکاری اداروں پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کی خلاف ورزی توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ رجسٹرار کی جانب سے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ’’کوئی خلاف ورزی نہیں ہو رہی‘‘ جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو پھر سلیکشن بورڈ کو بائی پاس کیوں کیا گیا؟ ادھر جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کو ان کے غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کی جانب سے مسلسل گمراہ کیا جا رہا ہے اور ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے نہایت ہی کم تدریسی و یونیورسٹی کا تجربہ رکھنے والے وائس چانسلر کے لیے مستقبل میں مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ اور ان کی نگرانی میں ہونے والے فیصلے ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے بعض سنڈیکیٹ اراکین اور اساتذہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ اقدام نہ صرف سنڈیکیٹ کے اجتماعی فیصلے کی نفی ہے بلکہ میرٹ، شفافیت اور قانون کی حکمرانی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان فوری نوٹس لے اور تمام ترقیوں کا ریکارڈ طلب کر کے آزادانہ انکوائری کروائے۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود اضافی چارج برقرار رکھا گیا تو یہ ایک نیا آئینی بحران جنم دے سکتا ہے۔ یاد رہے کہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ماضی میں بھی انتظامی تنازعات کی زد میں رہی ہے، مگر حالیہ پیش رفت کو جامعہ کی تاریخ کا سب سے بڑا پروموشن سکینڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا متعلقہ ادارے اس معاملے پر کارروائی کرتے ہیں یا پھر یہ فائل بھی ماضی کی طرح سرد خانے کی نذر ہو جائے گی۔







