ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر کی جامعات میں کلیدی انتظامی اور تدریسی اسامیوں کی طویل المدتی خالی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ کمیشن کی جانب سے جاری مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد تدریسی اور انتظامی عہدے مختلف ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز میں خالی پڑے ہیںجس کے باعث تعلیمی، انتظامی اور مالی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نیازاحمداخترکی جانب سے وائس چانسلرز، ریکٹرز اور اداروں کے سربراہان کو ارسال کیے گئے مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پرو وائس چانسلر، ڈین، رجسٹرار، خزانچی، کنٹرولر امتحانات سمیت پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر اور لیکچرار کے عہدے طویل عرصے سے خالی ہیںجبکہ کئی جامعات میں عارضی اور عبوری انتظامات کے ذریعے نظام چلایا جا رہا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان اسامیوں کو بروقت اور میرٹ کی بنیاد پر پُر نہ کرنے کے باعث تعلیمی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے، تدریسی تسلسل میں خلل آ رہا ہے، تحقیقاتی نگرانی کمزور ہو رہی ہے اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔ مزید برآں مالی اور انتظامی فیصلوں میں عدم تسلسل ادارہ جاتی کمزوری کا سبب بن رہا ہے۔ کمیشن نے 9 فروری 2025 کو منعقدہ اپنے ہنگامی اجلاس میں اس صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے تمام جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ یونیورسٹی ایکٹ کے تحت تمام خالی اسامیوں کو فوری طور پر مشتہر کریں، باقاعدگی سے سلیکشن بورڈز منعقد کریں اور مکمل شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنائیں۔ واضح ڈیڈ لائن دیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ بھرتیوں کا عمل 15 اگست 2026 تک ہر صورت مکمل کیا جائے۔ کمیشن نے زیر التوا بھرتیوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے پر بھی زور دیا ہے تاکہ انتظامی تاخیر، ممکنہ قانونی پیچیدگیوں اور میرٹ کی خلاف ورزی جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔ مزید یہ کہ جہاں اساتذہ کی تقرری صرف منظور شدہ آسامیوں کی عدم دستیابی کے باعث رکی ہوئی ہو، وہاں قانونی اور مالی گنجائش کے اندر نئی اسامیاں تخلیق کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ نوٹیفکیشن میں دو ٹوک انداز میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی اہل امیدوار کو محض انتظامی سستی، سلیکشن باڈیز کے اجلاس نہ بلانے یا نشستوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے تقرری سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، بشرطیکہ معاملہ قانونی طریقہ کار کے تحت حل کیا جا سکے۔Higher Education Commission نے خبردار کیا ہے کہ ان ہدایات پر فوری، سخت اور قابلِ تصدیق عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ بھرتی کے عمل میں مزید تاخیر یا سلیکشن بورڈز کے انعقاد میں کوتاہی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں انتظامی اور ریگولیٹری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس بار واقعی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد ہوا تو جامعات میں جاری انتظامی بحران میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، بصورت دیگر عارضی تقرریوں اور عبوری انتظامات کا سلسلہ اعلیٰ تعلیم کے معیار پر مزید منفی اثرات مرتب کرتا رہے گا۔







