ریلوے ملتان ڈویژن نیلامی متنازع، اوپن بولی مشکوک، کمیٹی غائب، من پسند ٹھیکےدار مستفید

بہاولپور( ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان ریلوے کے ملتان ریلوے ڈویژن میں زرعی اراضی کی پانچ سالہ لیز کے لیے منعقدہ نیلام عام شدید تنازع کا باعث بن گیا۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی پراپرٹی اینڈ لینڈ کی ہدایت پر 23 فروری 2026 کو جاری کردہ S-5 سیریز فہرست کے تحت گزشتہ روز 26 فروری 2026 کو وہاڑی ریلوے سٹیشن پر نیلامی منعقد کی گئی تاہم اس عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ریلوے کی موجودہ زرعی پراپرٹی پالیسی، پریمیسز اینڈ لینڈ مینجمنٹ رولز اور اوپن آکشن گائیڈ لائنز کے مطابق:اوپن نیلام عام لازمی ،تمام لیز اوپن اور مسابقتی بولی کے ذریعے دی جائیں۔ ریزرو پرائس کا تعین :مستاجر نامہ 2026 اور متعلقہ شیڈول کے مطابق کم از کم بنیادی نرخ مقرر اور با آواز بلند اعلان کیا جانا ضروری ہے۔ کمیٹی کی مکمل موجودگی :ہیڈ آف کمیٹی اے ای این ای او ڈبلیو پاک پتن احمد سرگانہ، اکاؤنٹس برانچ کےدو نمائندے ایک اہلکار ویجیلنس کی بیک وقت موجودگی لازمی ہے؛ کسی رکن کی غیر موجودگی میں کارروائی مشروط سمجھی جاتی ہے۔جب کہ موجودہ آکشن محمد وسیم جونیئر کلرک ثاقب ورکس معاون اورنعیم میٹ ریٹائرڈ ریلوے ملازم جو کہ عرصہ دو سال سے ریلوے کے امور سر انجام دے رہا ہے اور متعدد آکشن میں شامل افراد کے ساتھ ملی بھگت سے ان کو آکشن میں شامل کرایا گیا اور سابقہ لیزر کی ملی بھگت سے اپنے من پسند کلائنٹس کو ہی نوازا گیا اور بھاری نظرانہ وصول کیا گیا جس سے موجودہ آکشن میں ریکارڈ کی شفافیت سی ڈی آر وصولی اور بولی رجسٹر کی فوری اندراج اور آڈٹ تصدیق۔زیادہ سے زیادہ ریونیو کا اصول ہر نیلامی کا بنیادی مقصد ریلوے آمدن میں اضافہ اور مسابقتی ماحول کی فراہمی کو مد نظر رکھنا تھا ۔ذرائع کے مطابق 26 فروری کی صبح سات بجے ہی محمد وسیم جونیئر کلرک ٹی ایل اے ثاقب ورکس معاون ریلوے اہلکار وہاڑی سٹیشن پہنچ گئے اور مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ افراد سے سی ڈی آر وصول کیے گئے، جبکہ نئے درخواست گزاروں کے سی ڈی آر پر اعتراضات لگائے جاتے رہےچند افراد کو فرضی نمائندوں کے ذریعے شامل کیا گیا۔بولی کی رقم با آواز بلند اعلان نہیں کی گئی۔مقررہ وقت سے قبل معاملات طے کر لیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی او ڈبلیو محمد احمد سرگانہ تقریباً 11 بجے پہنچے جبکہ کمیٹی ہیڈ اے این لودھراں دوپہر 2 بج کر 50 منٹ تک آکشن میں موجود نہ تھے جبکہ سیریل نمبر ایک تا 105 تک تمام آکشن کو انڈردا ٹیبل مکمل کیا گیا جس کے باعث متعدد امیدوار انتظار کے بعد واپس چلے گئے۔ ناقدین کے مطابق اگر کمیٹی مکمل نہ ہو تو کارروائی رولز کے مطابق سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ الزام ہے کہ مستاجر نامہ 2026 کے تحت مقرر کردہ ریزرو ریٹ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ اگر اوپن اور مسابقتی بولی نہ ہو تو ریلوے کو ممکنہ طور پر لاکھوں روپے سالانہ ریونیو نقصان ہو سکتا ہےجو قواعد کے بنیادی مقصد کے منافی ہے۔ماضی میں بھی پاک پتن سیکشن میں کم نرخوں پر لیز دینے اور مبینہ نذرانہ وصولی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیںتاہم ان معاملات کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید نہیں ہو سکی۔ عوامی سماجی حلقوں نے ڈی جی ویجیلنس ریلوے، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی اور متعلقہ ڈویژنل حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل آکشن ریکارڈ، بولی رجسٹر اور سی ڈی آر تفصیلات طلب کی جائیں اور مطابق اکشن کمیٹی کے ممبران کی سی ڈی ار ٹیلی فون مطابق موقع چیک کی جائیں۔کمیٹی کی حاضری اور وقت کی لاگ بُک چیک کی جائے۔اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو نیلامی منسوخ کر کے دوبارہ اوپن آکشن کرایا جائے۔ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔دوسری جانب متعلقہ افسران کا مؤقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم خبر کی اشاعت تک باضابطہ ردعمل موصول نہیں ہو سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں