ملتان (سپیشل رپورٹر)ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی انفورسمنٹ ٹیم کی کارروائیاں ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بعض اہلکار ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں پیش پیش ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن سے قبل ہی متعلقہ علاقوں میں مبینہ طور پر ’’نذرانہ‘‘ وصول کرنے والے اہلکار ریڑھی بانوں اور تجاوزات مافیا کو فون کر کے آگاہ کر دیتے ہیں، جس کے بعد کارروائی محض نمائشی رہ جاتی ہے۔نیو شاہ شمس کالونی، عزیز ہوٹل چوک، ڈبل پھاٹک اور پل شجاع آباد روڈ کے گردونواح تجاوزات کی آماجگاہ بن چکے ہیں، جہاں انفورسمنٹ اہلکار برسوں سے منتھلیاں وصول کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ضبط کیا گیا سامان ایک ہی گھنٹے میں ’’لے دے‘‘ کی پالیسی کے تحت واپس کر دیا جاتا ہے، جس سے سرکاری کارروائیاں بے اثر اور حکومتی وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔گزشتہ روز نیو شاہ شمس کالونی کے مین گیٹ پر ایم ڈی اے انفورسمنٹ ٹیم نے آپریشن کیا، مگر ایک گھنٹے بعد ہی علاقہ دوبارہ ریڑھی بانوں کے قبضے میں چلا گیا۔ گرین بیلٹ توڑ کر گنے کے جوس کی ریڑھیاں قائم کر دی گئیں جنہیں اہلِ علاقہ کے مطابق بعض ایم ڈی اے ملازمین کی سرپرستی حاصل ہے۔مرکزی شاہراہ پر قائم اس غیرقانونی ریڑھی بازار کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں کیونکہ گاہک دکانوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث واپس لوٹ جاتے ہیں۔میڈیا میں خبر شائع ہونے کے بعد ایم ڈی اے کی ٹیم دوپہر بارہ بجے دوبارہ موقع پر پہنچی اور چند ریڑھیاں ہٹوا کر رسمی کارروائی کر کے واپس چلی گئی، تاہم گرین بیلٹ پر قائم ریڑھی بدستور موجود رہی۔مقامی مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار ڈی جی ایم ڈی اے اور کمشنر کو شکایات درج کرائیں مگر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے کر تجاوزات مافیا اور مبینہ کرپٹ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ نیو شاہ شمس کالونی، عزیز ہوٹل چوک، ڈبل پھاٹک اور پل شجاع آباد روڈ کو ریڑھی مافیا سے نجات دلائی جا سکے۔






