سرکاری جامعات میں ریزیڈنٹ آڈیٹرز کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھ گئے

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب کی سرکاری جامعات میں ریزیڈنٹ آڈیٹرز کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان ایک نہایت سنجیدہ اور تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جب ریزیڈنٹ آڈیٹر کی سالانہ خفیہ رپورٹ (اے سی آر) اسی وائس چانسلر کے ہاتھ میں ہو جس کے مالیاتی فیصلوں کا آڈٹ کیا جانا ہو تو احتساب کا پورا تصور ہی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ اسی تناظر میں چند ماہ قبل ویمن یونیورسٹی ملتان میں پیش آنے والا ایک واقعہ زیرِ بحث ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس وقت کی عارضی وائس چانسلر/پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے مبینہ طور پر ٹی اے/ڈی اے کے بعض بل کلیئر نہ کرنے پر ریزیڈنٹ آڈیٹر کے خلاف مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی ری پیٹری ایشن (واپسی) کی درخواست متعلقہ حکام کو بھجوا دی۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ ریزیڈنٹ آڈیٹر نے اپنی ساکھ کو مزید متنازع ہونے سے بچانے کے لیے ازخود تبادلہ کروا لیا۔ ایک باخبر ذریعے کے مطابق “اصل تنازع غیر قانونی ٹی اے/ڈی اے کی ادائیگی پر اعتراض سے شروع ہوا تھا۔ جب ادائیگی سے انکار کیا گیا تو ماحول کشیدہ ہو گیا۔” مزید سنگین دعوے یہ سامنے آئے ہیں کہ متعلقہ آڈیٹر کی رخصتی کے بعد بعض تقریبات، جن میں گرینڈ گالا اور سیرت کانفرنس جیسے پروگرام شامل تھے، کے فنڈز کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھے۔ بعض ذرائع کا الزام ہے کہ رقوم کی ترسیل کے حوالے سے غیر معمولی انتظامی فیصلے کیے گئے اور بعد ازاں اس کی توجیہہ “ٹیکس امور” سے جوڑی گئی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، اور متعلقہ حکام کا مؤقف بھی سامنے آنا باقی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ کسی ایک فرد یا ادارے تک محدود نہیں بلکہ وہ انتظامی ڈھانچہ ہے جس میں آڈیٹر کو اسی سربراہ کے ماتحت کام کرنا پڑتا ہے جس کے مالی فیصلوں کی جانچ اس کے ذمے ہو۔ جب اے سی آر لکھنے کا اختیار وائس چانسلر کے پاس ہو اور آڈٹ بھی اسی دفتر کا ہو تو دباؤ، مفاہمت یا کشیدگی—تینوں امکانات بیک وقت موجود رہتے ہیں۔ ایک سینئر آڈٹ افسر کے بقول، “اے سی آر کا بوجھ ایک خاموش دباؤ ہوتا ہے۔ ہر ریزیڈنٹ آڈیٹر جانتا ہے کہ اس کی پیشہ ورانہ ترقی اسی رپورٹ سے جڑی ہے۔ ایسے میں مکمل آزادی برقرار رکھنا عملی طور پر مشکل ہو جاتا ہے۔” ماہرین قانون کے مطابق اگر کارکردگی رپورٹنگ کا نظام ایسا ہو جو آڈٹ کی خودمختاری کو متاثر کرے تو اسے انتظامی اصلاحات کے ذریعے درست کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقرری اور انتظامی کنٹرول چونکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے پاس ہے، اس لیے اے سی آر کے طریقہ کار کو بھی اسی دائرہ اختیار میں لانا شفافیت کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔ اساتذہ نمائندوں اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف اس مخصوص واقعے بلکہ صوبے بھر کی جامعات میں آڈٹ اور انتظامیہ کے تعلقات کا جامع جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر احتساب کا نظام شخصیات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تو مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی شفافیت دونوں متاثر ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ حکام اس مبینہ مفادات کے ٹکراؤ اور انتظامی کمزوری کا سنجیدہ نوٹس لے کر اصلاحات کی طرف بڑھیں گے، یا پھر اے سی آر کے دباؤ تلے ریزیڈنٹ آڈیٹرز اسی طرح “خاموش توازن” قائم رکھنے پر مجبور رہیں گے؟

شیئر کریں

:مزید خبریں