جامعہ زکریا میں من پسند ترقیوں کا سکینڈل، چہیتوں پر نوازش، میرٹ پر سوالیہ نشان

ملتان (سہیل چوہدری سے) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ایک نئے اور سنگین انتظامی تنازعے کی لپیٹ میں آ گئی ہے جہاں پر من پسند اور صرف قریبی افراد کی ترقیوں کے معاملے نے پوری یونیورسٹی میں ہلچل مچا دی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 6 ماہ سے زائد ایڈیشنل چارج پر قابض عارضی و غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد نے نہایت ہی کم تعلیمی تجربے کے حامل وائس چانسلر ڈاکٹر محمد زبیر اقبال غوری کی منظوری سے اپنے سگے بھائی اور چند دوستوں کو گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی دلوا دی، جبکہ دیگر سینئر اور اہل افسران طویل عرصے سے ترقی کے منتظر رہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ ترقیوں کا عمل غیر معمولی تیزی سے مکمل کیا گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نہ تو باقاعدہ سلیکشن بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، نہ ہی امیدواروں کا میرٹ کے مطابق تقابلی جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں بجٹ میں ان ترقیوں کے لیے واضح اسامیوں کی گنجائش اور تنخواہوں کی فکسیشن کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض ملازمین کا کہنا ہے کہ سروس رولز کے تقاضے پورے کیے بغیر نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ ترقی پانے والوں میں عارضی اور غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کے بھائی اختر رسول کا نام بھی شامل ہے، اس کے علاؤہ گل محمد شاہ ،ذوالفقار علی نقوی ، فیصل اکرم ،محمد عارف ،طارق محمود اور خلیل احمد کو ترقی دی گئی جس پر ملازمین کی بڑی تعداد نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ “ہم نے اپنی پوری سروس یونیورسٹی کے لیے وقف کر دی، مگر ہماری فائلیں سالہا سال التوا کا شکار رہیں۔ اگر ترقی کا معیار رشتہ داری ہے تو پھر میرٹ کا نعرہ محض دکھاوا رہ جاتا ہے۔” اطلاعات کے مطابق وائس چانسلر نے ان ترقیوں کی منظوری دیتے ہوئے فوری نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے بعد معاملہ تیزی سے پورے کیمپس میں پھیل گیا۔ سوشل اور انتظامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں۔ بعض ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے اور تمام ریکارڈ منظر عام پر لایا جائے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر ترقیوں میں سروس رولز یا مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ حکام کے خلاف محکمانہ کارروائی یا آڈٹ بھی ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے اس حالیہ تنازعے نے ایک بار پھر سرکاری جامعات میں میرٹ، شفافیت اور احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ ملازمین اور تعلیمی حلقے اب اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا اعلیٰ حکام اس معاملے کا نوٹس لے کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں گے یا یہ معاملہ بھی وقتی شور کے بعد پس منظر میں چلا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں