صوبہ بھر میں ٹریفک قوانین کی آڑ میں عام شہریوں پر جرمانوں کی بارش اور دوسری جانب بااثر افسران کے لیے کھلی چھوٹ! یہ دوہرا معیار اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ پنجاب میں اگر کسی شہری کی موٹر سائیکل یا گاڑی کی نمبر پلیٹ مقررہ قانون کے مطابق نہ ہو تو اسے فوری طور پر بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر یہی قانون طاقتور افسروں کے در پر ایڑیاں رگڑرتا ہے اور خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ ملتان میں تعینات ایک بااثر صوبائی محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا زیراستعمال جیک ڈبل کیبن ڈالا جو کہ ایک سٹیج ڈانسر کے کرائے کے گھر کر سامنے مزکورہ ڈانسر کے عقب میں محو استراحت ہے، پر سرکاری انداز کی سبز نمبر پلیٹ اور گھومنے والی نیلی لائٹ کی درجنوں تصاویر میں سے ایک بہت سے سوالات اٹھا رہی ہے۔ یہ ڈالا نیلی لائیٹ کے ساتھ شہر میں دندناتا پھرتا ہے۔ حیران کن طور پر یہ گاڑی نہ صرف حساس اور اہم مقامات پر دیکھی گئی بلکہ سرکاری دفاتر کے سامنے سرعام کھڑی بھی کی جاتی ہے، جہاں عام شہری خوف اور دباؤ کے باعث راستہ بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کے مطابق سبز نمبر پلیٹ اور فلیشر لائٹس مخصوص سرکاری گاڑیوں کے لیے ہی مختص ہوتی ہیں، مگر یہاں نجی گاڑی کو سرکاری تاثر دے کر نہ صرف قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں بلکہ پورے نظام کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہی خلاف ورزی کسی عام آدمی سے سرزد ہو تو اس کی گاڑی سوار سمیت تھانے میں بند اور جیب خالی ہونا یقینی ہے، مگر مزکورہ صوبائی محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے معاملے میں سرکاری اداروں کی خاموشی معنی خیز ہے۔ اس طاقتور صوبائی محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا ٹیلی فون ہر تھانے کے لیے “اہم کال” سمجھا جاتا ہے، جس کے بعد قانون کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قانون صرف کمزور کے لیے ہے؟ کیا ٹریفک پولیس کی عملداری اور قانون باآثر افراد کے سامنے بے آثر ہو جاتے ہیں؟ اب جبکہ ملتان میں نئے آر پی او نے چارج سنبھال لیا ہے، جن کی پہچان ایمانداری اور میرٹ پر مبنی فیصلوں سے جانی جاتی ہے، شہریوں کی نظریں ان پر مرکوز ہیں۔ کیا وہ اس کھلے عام چیلنج کا نوٹس لیں گے؟ کیا سرکاری علامتوں کے ناجائز استعمال پر کارروائی ہوگی؟ یا پھر طاقت ور کا فون ایک بار پھر قانون پر بھاری پڑے گا؟ شعور رکھنے والے تو مطالبہ کریں گے کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے، نجی گاڑی پر سرکاری نمبر پلیٹ اور نیلی لائٹس لگانے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہو اور یہ واضح پیغام دیا جائے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ چاہے وہ عام شہری ہو یا بااثر افسر۔






