ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کی اہم سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی MNS University of Engineering & Technology, Multan میں کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک استاد کی تقرری اور بعد ازاں ترقی کا معاملہ سنگین آڈٹ اعتراض کی صورت میں سامنے آ گیا ہے، جس نے یونیورسٹی کے تقرری نظام، میرٹ پالیسی اور داخلی نگرانی پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی کے 12 سال سے زائد عارضی تعینات رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر جن کی پہلے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پھر پروفیسر کی تقرری میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیاں پائی گئیں۔ 2018 میں اشتہار (IPL No.11076) کے ذریعے ایسوسی ایٹ پروفیسر (BS-20) کی آسامی مشتہر کی گئی۔ دستاویزی ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ اس آسامی کے لیے صرف ایک امیدوار نے درخواست دی اور 19 جنوری 2019 کو منعقدہ سلیکشن بورڈ اجلاس میں وہی امیدوار منتخب بھی قرار پایا۔ تاہم آڈٹ کے مطابق فائلوں میں نہ تو تمام درخواست گزاروں کی مکمل فہرست دستیاب تھی، نہ شارٹ لسٹ کیے گئے یا مسترد امیدواروں کی تفصیل، اور نہ ہی انٹرویو میں شرکت کرنے والوں کی اصل دستخط شدہ حاضری شیٹس موجود تھیں۔ اس صورتحال کو آڈٹ نے تقرری کے عمل میں شفافیت کی شدید کمی قرار دیا۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ مذکورہ امیدوار کے پاس متعلقہ شعبے یعنی کیمیکل انجینئرنگ میں مطلوبہ تدریسی و تحقیقی تجربہ مکمل نہیں تھا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقررہ معیار کے مطابق ایسوسی ایٹ پروفیسر (BS-20) کے لیے کم از کم 10 سال جبکہ پروفیسر (BS-21) کے لیے 15 سال تدریسی/تحقیقی تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ آڈٹ کے مطابق 2024 میں جب اسی شخصیت کو پروفیسر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تو اشتہار کے وقت ان کا متعلقہ شعبے میں تجربہ 9 سال بنتا تھا، جو مقررہ معیار سے کم تھا۔ آڈٹ حکام نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اگر امیدوار کا بطور جونیئر ڈیمانسٹریٹر الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں حاصل کردہ تجربہ یا بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ کام کو شامل کر لیا جائے تو مجموعی مدت پوری ہو سکتی تھی، تاہم یہ تجربہ کیمیکل انجینئرنگ سے براہ راست متعلق نہیں تھا۔ مزید یہ کہ متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے تجربے کی مطابقت کا کوئی باضابطہ سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیا گیا اور ریسرچ ایسوسی ایٹ کی تقرری کا باقاعدہ اپائنٹمنٹ لیٹر بھی فائل میں موجود نہیں پایا گیا۔ آڈٹ کے مطابق ایسی صورت میں مذکورہ تجربہ قانونی طور پر مجموعی تدریسی یا تحقیقی تجربے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں University of Engineering and Technology, Lahore ایکٹ 1974 کی دفعہ 14(1) کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ وائس چانسلر یونیورسٹی کے چیف ایگزیکٹو اور اکیڈمک افسر ہوتے ہیں اور ان پر لازم ہے کہ وہ قوانین، اسٹیچیوٹس اور ریگولیشنز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اسی طرح پنجاب فنانشل رولز (PFR) کے رول 2.33 کے تحت ہر سرکاری ملازم اپنی غفلت یا بے ضابطگی سے ہونے والے کسی بھی مالی نقصان کا ذاتی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔ آڈٹ نے قرار دیا کہ تقرری کے عمل میں کمزور داخلی و نگران کنٹرولز کے باعث یہ بے ضابطگی ممکن ہوئی۔ اگرچہ اعتراض کی نشاندہی پر متعلقہ ادارے نے مشاہدہ نوٹ کیا، تاہم ذمہ داری کے تعین یا تادیبی کارروائی کے حوالے سے کوئی واضح اقدام ریکارڈ پر نہیں آیا۔ آڈٹ کے مطابق اس تقرری کے نتیجے میں تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ادائیگیاں ہوئیں، جو قواعد کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں “غیر مجاز اخراجات” کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ آڈٹ نے اپنی سفارشات میں زور دیا ہے کہ مجاز فورم ان تقرریوں کا ازسرنو جائزہ لے، مکمل ریکارڈ کی ری کنسیلی ایشن کی جائے، شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور بے ضابطگی میں ملوث افسران کے خلاف ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ ساتھ ہی ایک بااختیار انکوائری کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ تمام حقائق منظر عام پر لائے جا سکیں۔ یونیورسٹی حلقوں میں اس معاملے پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر میرٹ، شفافیت اور قواعد کی پاسداری کو یقینی نہ بنایا گیا تو نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ طلبہ اور اساتذہ کا اعتماد بھی مجروح ہوگا۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا جو کہ ہر معاملے کا بہترین جانچ رکھتے ہیں ان کے مقابلے میں اب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا کڑا امتحان ہے کہ وہ اب اس معاملے کی تحقیقات کریں گے یا عارضی و غیر قانونی رجسٹرار و پروفیسر ڈاکٹر عاصم عمر کو سہولیات فراہم کریں گے۔






