احتساب و شفافیت: ایچ ای ڈی خیبر پختونخوا متحرک، پنجاب میں خاموشی، عملی اقدامات کا انتظار

ملتان (سٹاف رپورٹر) اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں احتساب اور شفافیت کے حوالے سے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس کے درمیان کارکردگی کا فرق کھل کر سامنے آگیا ہے۔ ایک طرف ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا ہے جو میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹیاں تشکیل دے رہا ہے، تو دوسری جانب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب پر مسلسل خاموشی اور عدم کارروائی کے الزامات لگ رہے ہیں۔حال ہی میں یونیورسٹی آف ہری پور میں مبینہ غیر قانونی سلیکشن بورڈ سے متعلق خبر سامنے آتے ہی خیبر پختونخوا کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تاکہ ذمہ داران کا تعین ہو سکے اور بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔ تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کومثالی اور فوری ردعمل قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس پنجاب میں صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ متعدد جامعات سے متعلق بے ضابطگیوں اور مبینہ غیر قانونی اقدامات کی خبریں شائع ہونے کے باوجود تاحال کوئی نمایاں یا موثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہر خبر کے ساتھ مکمل دستاویزی ثبوت اور تفصیلات بھی فراہم کی گئیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ جن جامعات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان میں ویمن یونیورسٹی ملتان، بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، ایمرسن یونیورسٹی ملتان، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان اور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور شامل ہیں۔ ان اداروں میں مبینہ تقرریوں، سلیکشن بورڈز اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق خبریں منظر عام پر آتی رہیں، مگر اس حوالے سے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے کوئی واضح اور فیصلہ کن اقدام سامنے نہیں آیا۔ متعلقہ جامعات کے اساتذہ اور ملازمین شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر پنجاب کا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کارروائی سے کیوں گریزاں ہے؟ کیا بیوروکریٹک سستی اس کی وجہ ہے یا پھر بااثر شخصیات کی سرپرستی آڑے آ رہی ہے؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ایکشن نہ لیا گیا تو میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ماہرین تعلیم کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا کا ماڈل اس بات کی مثال ہے کہ اگر سیاسی و انتظامی عزم موجود ہو تو میڈیا رپورٹس پر بھی فوری اور موثر کارروائی ممکن ہے۔ پنجاب میں بھی اسی طرزِ عمل کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور تعلیمی برادری کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اس تنقید کا نوٹس لے کر عملی اقدامات کرے گا یا اعلیٰ تعلیم کا شعبہ بدستور سوالات کی زد میں رہے گا؟

ہری پوریونیورسٹی، سلیکشن بورڈ پرالزامات، انکوائری کمیٹی تشکیل

ملتان (سٹاف رپورٹر) صوبہ خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک نئی ہلچل اس وقت پیدا ہو گئی جب Higher Education, Archives & Libraries Department Khyber Pakhtunkhwa نے University of Haripur کے سلیکشن بورڈ میں مبینہ اقربا پروری اور جانبداری کے الزامات کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ محکمہ کی جانب سے 22 فروری 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں میں سلیکشن بورڈ کی کارروائی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ الزامات میں کہا گیا کہ تقرریوں کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا۔ ان خبروں کے بعد حقائق جاننے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی قائم کی گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری (یونیورسٹی) محمد فاروق کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی سیکرٹری (یونیورسٹی) اظہر ظہور اور Abbottabad University of Science & Technology کے رجسٹرار کو بطور رکن شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سلیکشن بورڈ کے اجلاسوں کا مکمل ریکارڈ، اشتہارات، اہلیت کے معیار، شارٹ لسٹنگ کے طریقہ کار، انٹرویو کی کارروائی اور نمبرات کی تقسیم کا تفصیلی جائزہ لے۔ مزید برآں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ تقرریاں یونیورسٹی ایکٹ، متعلقہ اسٹیچیوٹس اور حکومتی پالیسی کے مطابق کی گئیں یا نہیں۔ کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ اگر کسی قسم کی بے ضابطگی، مفاداتی ٹکراؤ یا اثر و رسوخ کے استعمال کے شواہد ملیں تو ذمہ دار افراد کا تعین کرے اور مستقبل میں شفاف اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنانے کے لیے سفارشات پیش کرے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی اپنی جامع رپورٹ دس روز کے اندر محکمہ اعلیٰ تعلیم کو پیش کرے گی۔ تعلیمی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں حقائق سامنے آئیں گے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں