ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں ہاؤسنگ سیکٹر ایک بار پھر بڑے مالیاتی سکینڈل کی زد میں آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ایم ڈی اے)کی مبینہ سرپرستی میں لاہور کی ایک پرائیویٹ پارٹی نے ’’ایسٹرن ہاؤسنگ‘‘کے نام پر کائیاں پور کے علاقے میں ہزاروں پلاٹ فروخت کر کے شہریوں سے اربوں روپے بٹور لیےجبکہ متعلقہ منصوبے کو این او سی تک حاصل نہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی گلبرگ ایگزیکٹو کے نام پر شہریوں سے خطیر رقوم وصول کیے جانے کا معاملہ سامنے آ چکا ہے، تاہم تازہ الزامات نے ایک بار پھر ایم ڈی اے کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ایم ڈی اے کی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ عنائزہ حنا کے مطابق مذکورہ ٹاؤن کو کسی قسم کا این او سی جاری نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے کے ریکارڈ کے مطابق یہ منصوبہ سر بمہر(سیل) کیا جا چکا ہے اور نہ تو وہ پلاٹ فروخت کرنے کے مجاز ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی ڈویلپمنٹ کر سکتے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق موقع پر نہ دفاتر سیل کیے گئے نہ تعمیراتی سرگرمی روکی گئی اور نہ ہی کسی نمایاں مقام پر یہ نوٹس آویزاں کیا گیا کہ یہ غیر قانونی ہاؤسنگ سکیم ہے اور پلاٹ فروخت نہیں کیے جا سکتے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ واقعی غیر قانونی ہے تو اسے کھلے عام مارکیٹنگ اور فروخت کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے۔ مزید انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایم ڈی اے کی ویب سائٹ پر غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی فہرست میں پہلے اس ٹاؤن کا نام موجود تھا مگر بعد ازاں اسے فہرست سے ہٹا دیا گیا۔ شہری حلقوں میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر ’’بھاری ڈیل‘‘کے بعد اس سکیم کو غیر اعلانیہ رعایت دی گئی۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ نہ صرف ادارہ جاتی نااہلی بلکہ ممکنہ ملی بھگت کا بھی اشارہ دیتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسٹرن ہاؤسنگ کے مالک میاں عبدالصمد کو ایم ڈی اے کے بعض افسران کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ یہاں تک کہ ایک اعلیٰ افسر کی براہ راست سپورٹ کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہےجس کے باعث نہ تو کارروائی کی گئی اور نہ ہی فروخت کا سلسلہ روکا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لگا رہے ہیں، مگر اگر کل کو یہ سکیم غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دی گئی تو ذمہ داری کون لے گا؟ کیا ایم ڈی اے متاثرین کو تحفظ دے گا یا معاملہ حسب روایت فائلوں میں دب جائے گا؟ اس معاملے پر تاحال کسی اعلیٰ سطحی انکوائری یا ایف آئی آر کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، فروخت کا عمل روکا جائے اور متاثرین کے سرمائے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ملتان کے عوام یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر ایک منصوبہ غیر قانونی ہے تو وہ تین سال سے کس کی آشیر باد سے چل رہا ہے؟ اور اگر قانونی ہے تو این او سی کہاں ہے؟ یہ سکینڈل نہ صرف شہریوں کے اعتماد کا امتحان ہے بلکہ سرکاری اداروں کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔






