ملتان (سٹاف رپورٹر) شہر اولیاء ملتان میں بلدیاتی نظام کے نام پر عوامی خدمت کا دعویٰ کرنے والے ادارے میونسپل کارپوریشن ملتان میں مبینہ کرپشن، بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک ایسا سنسنی خیز اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جاری کردہ سورس رپورٹ اور اس پر ہونے والی انکوائری میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ شہر بھر میں غیر قانونی عمارتوں، غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈز اور تجاوزات کی “مشروم گروتھ” دراصل ایک منظم کرپشن نیٹ ورک کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں سیریل نمبر 1 سے 64 تک ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈز قائم ہیں اور مبینہ طور پر بلدیہ کے بعض اہلکار ان سے باقاعدہ ماہانہ بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ اگرچہ مجموعی رقم کا درست تخمینہ فراہم نہیں کیا گیا، تاہم انکوائری میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ “متعدد” غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈز سے ماہانہ ادائیگیاں وصول کی جا رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق بعض غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈز ایم ڈی اے کی حدود میں بھی قائم ہیں، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے اور بین الادارہ جاتی ملی بھگت کے خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔ سورس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلدیاتی قوانین کے برعکس شہر میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات کھلے عام جاری رہیں، جبکہ متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر آنکھیں بند رکھیں۔ انکوائری کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ ریگولیشن برانچ کے سپرنٹنڈنٹ راؤ رفیع اور انفورسمنٹ انسپکٹر مبینہ طور پر عمارتوں کے مالکان سے ماہانہ بھتہ وصولی میں ملوث رہے۔ رپورٹ کے مطابق راؤ رفیع (سپرنٹنڈنٹ، ریگولیشن برانچ) اور منیر احمد (انفورسمنٹ انسپکٹر) کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ محمد علی قمر (اسسٹنٹ لائن سپروائزر) کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ انکوائری رپورٹ میں واضح طور پر سفارش کی گئی ہے کہ مذکورہ افسران و اہلکاروں کے خلاف Punjab Employees Efficiency, Discipline and Accountability Act 2006 (پیڈا ایکٹ 2006) کے تحت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملوث اہلکاروں کو معطلی، جبری ریٹائرمنٹ یا ملازمت سے برطرفی جیسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بلدیاتی ادارے خود ہی غیر قانونی تعمیرات اور پارکنگ مافیا کے سہولت کار بن جائیں تو عام آدمی انصاف کے لیے کہاں جائے؟ عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کروا کر تمام ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ اسکینڈل نہ صرف بلدیاتی نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس بات کا بھی عکاس ہے کہ اگر احتساب کا عمل مؤثر نہ ہو تو شہری نظام کس طرح بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔ملتان کے شہری اب اس بات کے منتظر ہیں کہ کیا یہ رپورٹ بھی ماضی کی طرح فائلوں میں دب جائے گی یا واقعی احتساب کا عمل آگے بڑھے گا؟ آیا کہ ڈپٹی کمشنر ملتان کیا اس رپورٹ پر کوئی ایکشن لیں گے یا پھر ملتان کے عوام کو ان بھتہ خوروں اور رشوت خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے۔ چنانچہ کمشنر ملتان اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے درخواست ہے کہ ملتان کے عوام کو ان بھتہ خوروں اور رشوت خور مافیا سے نجات دلائی جائے۔







