بی زیڈ یو: رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر مسلسل عارضی، سپریم کورٹ نظرانداز، گورننس پر سوالات

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایک بار پھر انتظامی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات کی زد میں آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے اپنی تعیناتی کے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود یونیورسٹی کی تین اہم ترین آئینی و انتظامی نشستوں رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر امتحانات پر مستقل تقرریاں نہ کر کے عارضی بنیادوں پر افراد کو براجمان رکھا ہوا ہےجسے قانونی ماہرین کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق رجسٹرار کی کرسی پر ایڈیشنل رجسٹرار اعجاز احمد یکم جنوری 2025 سے بطور عارضی چارج کام کر رہے ہیںحالانکہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے تحت کسی بھی انتظامی عہدے کا عارضی چارج زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے لیے دیا جا سکتا ہے۔ سوا سال گزر جانے کے باوجود مستقل تقرری نہ ہونا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اسی طرح کنٹرولر امتحانات کی نشست پر ڈاکٹر امان اللہ گزشتہ چھ سے سات برس سے عارضی حیثیت میں ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ خزانچی کی کرسی پر صفدر عباس خان لنگا ہ بھی تقریباً اسی مدت سے عارضی طور پر براجمان ہیں۔ انتظامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے میں ان کلیدی عہدوں کو طویل عرصہ تک عارضی بنیادوں پر چلانا نہ صرف قانون بلکہ میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ بعض وائس چانسلرز دانستہ طور پر ان عہدوں پر کمزور اور عارضی افراد کو تعینات رکھتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی انتظامی یا مالی بے ضابطگی پر مزاحمت نہ کر سکیں۔ عارضی افسران کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ اگر انہوں نے قانون کا حوالہ دے کر اختلاف کیا تو انہیں فوری طور پر ہٹا دیا جائے گا، یوں پورا نظام ایک شخصی کنٹرول کے تابع ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، اس معاملے پر متعدد بار محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب سے بھی رجوع کیا گیا، مگر تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبے کی جامعات کو قانون کے مطابق چلانے کی بجائے خاموش تماشائی بن کر دیکھنا تعلیمی نظام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور نہ صرف اس یونیورسٹی بلکہ صوبے کی تمام جامعات میں رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر جیسے اہم عہدوں پر باقاعدہ، میرٹ پر مبنی اور مستقل تقرریاں عمل میں لائیں تاکہ تعلیمی ادارے شخصیات نہیں بلکہ قانون کے تحت چل سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں