ویمن یونیورسٹی بہاولپور: چھٹا سلیکشن بورڈ غیر قانونی، ڈاکٹر صائمہ انجم سمیت تقرریاں متنازع

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کے چھٹے سلیکشن بورڈ جس میں رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر تقرری کے لیے ایکسپرٹس کی فہرست منظور کی گئی تھی، جس کی سفارشات کو باقاعدہ طور پر سنڈیکیٹ سے منظوری کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔ قواعد کے مطابق سلیکشن بورڈ کی سفارشات کو حتمی منظوری کے لیے سنڈیکیٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوتا ہے کیونکہ سنڈیکیٹ ہی تقرری کرنے والی مجاز اتھارٹی ہے اور اسی کے ذریعے کسی بھی تقرری کو قانونی حیثیت دی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق چھٹے سلیکشن بورڈ کے بعد اس کی نہ تو سنڈیکیٹ سے توثیق کرائی گئی اور نہ ہی اسے قانونی طور پر باقاعدہ بنایا گیا جس کے باعث اس کی کوئی قانونی حیثیت برقرار نہ رہ سکی۔ تاہم اس کے بعد ساتواں اور آٹھواں سلیکشن بورڈ منعقد کر دیے گئے جن کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر صائقہ امتیاز آصف وائس چانسلر گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور نے کی۔ اطلاعات کے مطابق ان اجلاسوں میں مختلف تدریسی و غیر تدریسی اسامیوں پر تقرریوں کی منظوری دی گئی، یاد رہے سابقہ چھٹے بورڈ کی قانونی حیثیت لیٹر نمبر 3708/Estt 11/03/2024 کے تحت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ مزید برآں ذرائع کا کہنا ہے کہ چھٹے سلیکشن بورڈ کی معطلی ساتویں اور آٹھویں بورڈ کے بعد عمل میں آئی جس نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین آف کمانڈ اور ادارہ جاتی شفافیت کو نظر انداز کیا گیا تو نہ صرف یونیورسٹی کی انتظامی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ میرٹ اور طلبہ کے مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اساتذہ اور شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ جب تک سنڈیکیٹ، بطور اپائنٹنگ اتھارٹی، سلیکشن بورڈ کی سفارشات کو قانونی شکل نہ دے، اس وقت تک ایسی تقرریوں کی آئینی و قانونی حیثیت سوالیہ نشان بنی رہتی ہے۔ اساتذہ اور ملازمین نے حکومت پنجاب اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سلیکشن بورڈز اور ان کی بنیاد پر کی گئی تقرریوں کی آزادانہ و شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ادارے میں قانون کی بالادستی اور میرٹ کی بحالی ممکن ہو سکے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم نے 2013 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد، بغیر کسی باقاعدہ اشتہار کے کنٹریکٹ بنیادوں پر خواتین یونیورسٹی بہاولپور میں ملازمت حاصل کی، جو یونیورسٹی کے اسٹیچیوٹس کے خلاف تھی۔ ابتدائی تقرری لیٹر نمبر 502/Estt مورخہ 05.08.2015 کے تحت جاری ہوا، جس نے دیگر ملازمین کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی۔ ذرائع کے مطابق، بعد ازاں انہوں نے اپنی وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم سے کہہ کر رجسٹرار اور پروفیسر آف کیمسٹری کا اشتہار شائع کروایا اور عارضی رجسٹرار کی حیثیت سے خود ہی درخواست دے کر اس پر کارروائی بھی کی۔ اس بارے میں یونیورسٹی کے ترجمان سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تاہم کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہو سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں