صارف قیمت اشاریہ بظاہر خوش کن ہے۔ سالانہ بنیادوں پر افراطِ زر ۶ء۱ فیصد ریکارڈ کیا گیا جو اکتوبر میں ۶ء۲ فیصد تھا۔ کاغذ پر یہ معمولی کمی ہے مگر اصل مسئلہ وہ خطرناک شکوک و شبہات ہیں جو اس پورے ڈیٹا کی بنیاد، اس کی شفافیت، اور اس کے استعمال کے طریقہ کار پر موجود ہیں۔ اور انہی ابہامات کی وجہ سے ملک کی معاشی سمت، خاص طور پر شرحِ سود کے فیصلے، مقامی ضرورتوں کے بجائے عالمی مالیاتی ادارے کے تقاضوں کے مطابق ڈھلتے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان گزشتہ ایک برس سے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکومتی بیانیہ “استحکام” کا دعویٰ کرتا ہے، مگر عوام کے لیے مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی جمود کی صورت حال کسی استحکام سے کم نہیں۔ اس پس منظر میں مہنگائی کی شرح کے اعداد و شمار محض عددی کھیل نہیں بلکہ معاشی فیصلہ سازی کی بنیاد ہیں۔ مگر جب ان اعداد کی صحت پر سوال اٹھنے لگیں تو فیصلہ سازی کا پورا عمل کھوکھلا ہو جاتا ہے۔پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق جون میں مہنگائی ۳ء۲، جولائی میں ۴ء۱ اور اگست میں ۳ فیصد رہی۔ پھر ستمبر میں یہ اچانک بڑھ کر ۵ء۶ فیصد ہو گئی، اور اکتوبر میں ۶ء۲ تک جا پہنچی۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب عالمی مالیاتی ادارے نے “ڈیٹا کے اہم نقائص” دور کرنے اور نئے طریقہ کار اپنانے کی تکنیکی معاونت فراہم کی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پرانا ڈیٹا غلط تھا؟ یا نیا طریقہ کار کوئی ایسا وزن اور تناسب استعمال کر رہا ہے جس سے افراطِ زر مصنوعی طور پر بلند نظر آتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی ادارہ مسلسل “ڈیٹا پر مبنی سخت مالیاتی پالیسی” کا تقاضا کرتا ہے۔شرحِ سود ۱۱ فیصد پر جم کر رہ گئی ہے جبکہ گزشتہ پانچ ماہ میں مہنگائی اوسطاً ۵ فیصد کے قریب رہی۔ دنیا بھر میں شرحِ سود کو عام طور پر افراطِ زر کے قریب رکھا جاتا ہے تاکہ کاروبار، روزگار، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کا عمل رکاوٹ کا شکار نہ ہو۔ پاکستان میں یہ شرح مہنگائی سے دگنی ہے جس نے قرضے مہنگے، کاروبار غیر منافع بخش، اور نئی سرمایہ کاری تقریباً ناممکن بنا دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صنعتیں سکڑ رہی ہیں، روزگار کم ہو رہا ہے اور نجی شعبہ تیزی سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے کبھی واضح نہیں کیا جاتا کہ شرحِ سود کو کس بنیاد پر طے کیا جا رہا ہے: کیا پیمانہ صارف قیمت اشاریہ ہے؟ یا بنیادی افراطِ زر؟ اگر بنیادی افراطِ زر دیکھا جائے تو یہ مسلسل نیچے آ رہا ہے اور شرحِ سود میں کمی کی پوری گنجائش موجود ہے۔ لیکن اگر فیصلے عالمی مالیاتی ادارے کی خواہش پر ہو رہے ہوں تو پھر مقامی ضرورت، عوامی تکلیف اور ملکی صنعت کی زبوں حالی ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کیفیت معاشی خود مختاری کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔اس بحران کا دوسرا اہم پہلو وہ سیلاب اور موسمیاتی تباہ کاریاں ہیں جن کا حوالہ ہر رپورٹ میں دیا جاتا ہے مگر عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈزاسٹر مینجمنٹ اور این ڈی ایم اے نے سیلابی تاریخ پر مبنی جامع رپورٹ پیش کی جس میں واضح نکات شامل تھے: مضبوط انفراسٹرکچر، موثر آب رسانی کا نظام، شہری سیلاب کے خلاف منصوبہ بندی، نکاسی آب کی جدید کاری، اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پانی کی موثر نگرانی اور انتظام۔ مگر ان میں سے کوئی ایک کام بھی زمینی حقائق میں نظر نہیں آتا۔ اس کے نتیجے میں ہر سال بارشیں آتی ہیں اور ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوبنے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ جب معیشت موسمیاتی جھٹکوں کے سامنے اتنی کمزور ہو تو مہنگائی کا مستقل دباؤ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ادھر یہ بھی حقیقت ہے کہ سیلاب اور موسمیاتی آفات کے نام پر ملکی کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب تک نکاسی آب کے نالے صاف نہیں ہوں گے، راوی اور ستلج کے ساتھ تجاوزات ختم نہیں ہوں گی، دریاؤں کے کنارے مضبوط نہیں بنیں گے، اور پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں پائیدار شہری منصوبہ بندی نہیں ہوگی—مہنگائی کے جھٹکے بار بار آئیں گے اور اس کا ملبہ ہمیشہ کم آمدنی والے شہریوں پر گرتا رہے گا۔بڑھتی ہوئی شرحِ سود، کمزور صنعتی پیداوار، غیر یقینی معاشی ماحول، بھاری ٹیکسوں، بلند توانائی نرخوں اور سیاسی عدم استحکام نے کاروباری ماحول کو اتنا زہر آلود کر دیا ہے کہ مقامی سرمایہ کار اپنی صنعتیں پھیلا نہیں رہے، جبکہ غیر ملکی کمپنیاں بھی ایک ایک کر کے ملک چھوڑ رہی ہیں۔ اس صورت حال میں مہنگائی کی معمولی کمی کسی کامیابی کے برابر نہیں جب تک اس کے پیچھے معاشی مضبوطی کا ڈھانچہ موجود نہ ہو۔حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کا بحران صرف قیمتوں کا نہیں، اعتماد کا بحران ہے۔ عوام کو بھی یقین نہیں کہ دکھائی جانے والی مہنگائی حقیقت ہے، اور کاروباری طبقے کو بھی یہ اعتماد نہیں کہ ریاست اپنے فیصلے خود کر رہی ہے یا کہیں اور سے ہدایات مل رہی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ شرحِ سود کے تعین کا طریقہ کار شفاف کیا جائے، پارلیمان میں اس پر بحث ہو، اور مرکزی بینک واضح کرے کہ وہ کس بنیاد پر فیصلے کر رہا ہے۔اگر شرحِ سود غیر ضروری طور پر بلند رہے گی تو مہنگائی بظاہر کم ہوگی مگر معیشت مر جائے گی۔ اور اگر معیشت مر گئی تو چند ماہ کے بعد یہی “کم مہنگائی” بدترین معاشی جمود میں بدل جائے گی۔پاکستان کو ضرورت ہے ایک ایسی معاشی حکمت عملی کی جو عوام کو ریلیف دے، کاروبار کو سانس لے سکنے کا موقع دے، اور صنعتی پیداوار کو دوبارہ بحال کرے۔ بصورتِ دیگر، مہنگائی کی عارضی کمی محض کاغذی خوش خبری ثابت ہوگی، جبکہ ملک حقیقی معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا رہے گا۔ اقتصادی استحکام عددی کھیل سے نہیں، ادارہ جاتی اعتماد، شفافیت اور عوامی مفاد کی ترجیح سے حاصل ہوتا ہے—اور یہی وہ عناصر ہیں جو ابھی شدید بحران کا شکار ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں آنے والی معمولی کمی کو حکومت اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی جیب میں یہ کمی کسی طرح محسوس نہیں ہوتی۔ جب آٹا، چینی، سبزی، گھی، دودھ، کرایہ، دوا، بجلی اور گیس کی قیمتیں کم ہونے کا نام نہ لیں، تو پھر صارف قیمت اشاریے میں ایک فیصد کمی محض کاغذ پر خوشنما لگتی ہے، زندگی میں نہیں۔ مہنگائی کے خلاف اصل جنگ وہ ہوتی ہے جس سے شہری کو ریلیف ملے—نہ کہ وہ جو صرف معاشی رپورٹس میں دکھائی دے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے پل کو کمزور کر دیا ہے۔وفاقی حکومت اگر واقعی مہنگائی کے مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف عددی اشاریوں پر خوش فہمی کا سہارا چھوڑنا ہوگا۔ جب تک بنیادی اشیا کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت، ذخیرہ اندوزی کے خلاف مستقل کریک ڈاؤن، منڈیوں میں نگرانی کے ناقابلِ انکار نظام، اور گیس و بجلی کے نرخوں میں تسلسل نہ لایا جائے، مہنگائی کے خلاف کوئی کامیاب حکمت عملی ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کرنسی مارکیٹ، درآمدات، پیٹرولیم لیوی اور ٹیکس پالیسی میں غیر مستقل فیصلے مہنگائی کو مزید بڑھاتے ہیں۔مرکزی بینک کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ آخر کس کے لیے پالیسیاں بنا رہا ہے۔ اگر شہریوں کو مہنگائی سے ریلیف دینا ہے تو شرحِ سود کم کرنا ہوگی، اور اگر عالمی ادارے کی خوشنودی مطلوب ہے تو پھر معیشت کا پہیہ یونہی رکتا رہے گا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں شرحِ سود کو مہنگائی کی دوگنی سطح پر رکھنے کا مطلب ہے کہ صنعتیں بند ہوں، چھوٹے کاروبار تباہ ہوں، زرمبادلہ کم ہو، درآمدات مہنگی ہوں، برآمدات غیر مسابقتی ہوں اور بے روزگاری بڑھے۔ یہ وہی راستہ ہے جس نے پاکستان کو ایک دہائی میں کئی بار معاشی بحران کے دہانے پر پہنچایا۔دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں شرحِ سود کا تعین ہمیشہ معیشت کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ محض بیرونی شرائط کو پورا کرنے کے لیے۔ یہاں صورتِ حال الٹی ہے—معیشت اندر سے دم توڑ رہی ہے اور ہم بیرونی قرض خواہ کے کہنے پر سخت ترین مالیاتی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ مہنگائی کم دکھائی دے رہی ہے لیکن معیشت سکڑ رہی ہے، جو مستقبل میں مزید مہنگائی کا پیش خیمہ ہے۔اس تمام پس منظر میں حکومت کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہوں گی۔ اگر واقعی معاشی استحکام مقصد ہے تو چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:ریاستی فیصلوں کو ڈیٹا کے حقیقی اعداد کے مطابق مرتب کیا جائے، نہ کہ ایسے اعداد و شمار کے مطابق جو کسی ’’تکنیکی اصلاح‘‘ کے بعد غیر حقیقی طور پر تبدیل دکھائی دیں۔شرحِ سود میں تدریجی کمی کر کے صنعت اور کاروبار کو سانس لینے دیا جائے۔توانائی کے نرخ مستحکم رکھے جائیں تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور مہنگائی قابو میں آئے۔قومی سطح پر زرعی اصلاحات، شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب کا نظام، اور موسمیاتی آفات کے بچاؤ کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔برآمدات کو بڑھانے کے لیے صنعتی شعبے کو ٹیکس اور توانائی کے شدید بوجھ سے نکالا جائے۔اپنے اداروں کی خود مختاری بحال کی جائے اور معاشی فیصلہ سازی میں شفافیت کو مقدم رکھا جائے۔اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو مہنگائی کے ہندسے چند ماہ کم رہیں گے، مگر زندگی کی مہنگائی میں کمی نہیں آئے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ عرصہ بعد شدید معاشی جمود، بے روزگاری اور درآمدی دباؤ ہمیں دوبارہ دوہرے ہندسے کی مہنگائی کی طرف دھکیل دے۔آخر میں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ معاشی استحکام کا بنیادی معیار صرف اعداد نہیں، لوگوں کا معیارِ زندگی ہوتا ہے۔ جب تک عام شہری کی زندگی مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی معاشی مستقبل کے بوجھ تلے دبی رہے گی، اس وقت تک کوئی اعداد و شمار اصل بہتری کی گواہی نہیں دے سکتے۔ پاکستان کے فیصلہ سازوں کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی اصلاحات بیرونی دباؤ سے نہیں، اندرونی سچائیوں کو تسلیم کرنے سے کامیاب ہوتی ہیں۔ملک کو درحقیقت معاشی سنجیدگی، ادارہ جاتی شفافیت، عوامی فلاح اور بااختیار پالیسی سازی کی ضرورت ہے—ورنہ مہنگائی کے کاغذی اعداد بدلتے رہیں گے اور عوام کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جائے گی۔






