ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائسرائے نما وائس چانسلر ڈاکٹر حسان خالق قریشی نے خود سے ملاقات کے لیے ایک پرنٹ شدہ پرفارما جاری کیا ہے جس نے تعلیمی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ایک سرکاری جامعہ کے سربراہ تک رسائی کو آسان بنانے کے بجائے ملاقات کو پیچیدہ اور بیوروکریٹک طریقہ کار سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ پرفارما کے مطابق یونیورسٹی سے باہر کے ہر فرد کو ملاقات سے قبل اپنا نام، ادارہ، عہدہ، حوالہ (Citation) ،رابطہ نمبر، ای میل، ملاقات کا مقصد، تفصیلی نکات، مجوزہ تاریخ و وقت اور حتیٰ کہ “Areas of Collaboration” بھی تحریری طور پر فراہم کرنا ہوگا۔ یہاں ایک تعلیمی ادارے میں اس طرح کے پرفارمے سے مختلف سوالات ہیں جن میں پہلا سوال یہ ہے کہ عام شہری یا سائل اپنا Citation کیوں دے؟ اگر کوئی عام شہری، طالب علم کے والدین، یا کسی مسئلے کے حل کے لیے آنے والا فرد وائس چانسلر سے ملنا چاہے تو اس سے Citation طلب کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کیا یونیورسٹی میں صرف بااثر شخصیات ہی وائس چانسلر تک رسائی حاصل کر سکیں گی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ملاقات سے پہلے ہی تمام نکات کیوں ظاہر کیے جائیں؟ پرفارما میںMeeting Points اور ملاقات کا مکمل مقصد پہلے سے درج کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ ناقدین پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حساس شکایت، انتظامی بے ضابطگی یا کسی افسر کے خلاف معلومات دینا چاہتا ہو تو کیا وہ پہلے ہی سب کچھ تحریری طور پر ظاہر کرنے پر مجبور ہوگا؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ Areas of Collaboration کی شرط کیوں؟ہر درخواست گزار سےAreas of Collaboration طلب کرنا کئی حلقوں کے نزدیک حیران کن ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شہری شکایت یا درخواست لے کر آ رہا ہو تو اس کا تعاون کے شعبوں سے کیا تعلق بنتا ہے؟ چوتھا سوال یہ ہے کہ ملاقات کا دورانیہ بھی درخواست گزار ہی تجویز کرے؟ پرفارما میں ملاقات کے دورانیے کے منٹس بھی طلب کیے گئے ہیں۔ یہ انتظامی طور پر غیر معمولی شرط ہے کیونکہ ملاقات کا وقت اور دورانیہ عام طور پر دفترِ وائس چانسلر طے کرتا ہے۔ پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا وائس چانسلر تک رسائی محدود کی جا رہی ہے؟ ایک عوامی یونیورسٹی کا سربراہ طلبہ، اساتذہ، شہریوں اور سٹیک ہولڈرز کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہونا چاہیے۔ تاہم اس قسم کے تفصیلی پرفارما سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ملاقات کے دروازے کھلے رکھنے کے بجائے مزید رسمی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ چھٹا سوال یہ ہے کہ ریکارڈنگ پر مکمل پابندی کیوں؟ پرفارما میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ ملاقات کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کو ریکارڈ، شیئر یا ظاہر نہیں کیا جا سکے گا۔ اگر ملاقات کسی عوامی مفاد، انتظامی شکایت یا شفافیت کے معاملے سے متعلق ہو تو پھر اس پابندی کی حدود کیا ہوں گی؟ ساتواں سوال یہ ہے کہ منظوری کا مکمل اختیار کس کے پاس؟ فارم کے آخر میںApproved: Yes / No کا اختیار مکمل طور پر دفترِ وائس چانسلر کو دیا گیا ہے جبکہ انکار کی وجوہات بتانے کی کوئی لازمی شرط موجود نہیں۔ جدید جامعات میں انتظامی نظم و ضبط ضروری ضرور ہے، لیکن ایسا نظام بھی ہونا چاہیے جو طلبہ، اساتذہ، شہریوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو یونیورسٹی کی اعلیٰ قیادت تک آسان رسائی فراہم کرے۔ بصورت دیگر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ وائس چانسلر آفس عوامی رابطے کے بجائے ایک محدود اور سخت بیوروکریٹک دائرے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی ایمرسن یونیورسٹی ہے جن کے سابقہ 68 سالہ وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان اپنے باورچی کے ساتھ منہ کالا کرتے ہوئے ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا۔







