راولپنڈی: ٹک ٹاکر ایمان کے ساتھ تشدد اور بال کاٹنے کا معاملہ سامنے آ گیا

راولپنڈی: ٹک ٹاکر ایمان کے ساتھ تشدد اور بال کاٹنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کی تفصیلات ابتدائی تفتیش میں واضح ہو گئیں۔ واقعہ ایک سالگرہ کی تقریب کے دوران پیش آیا۔
تھانہ نصیر آباد اور تھانہ لوہی بھیر کے علاقوں میں ہونے والے اس واقعے میں ایمان کو بدسلوکی اور بال کاٹنے کا نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی کے ساتھ نظار خان عرف ارمان خان اور دیگر افراد نے معمولی تنازع پر تشدد کیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق سالگرہ کے موقع پر ایمان نے اس بات کا ذکر کیا کہ نظار خان کے شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی دوسری لڑکی سے اس کے تعلقات ہیں، جس کے بعد واقعہ سنگین شکل اختیار کر گیا۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی: ٹک ٹاکر ایمان پر تشدد اور بال کاٹنے کے کیس میں 3 ملزمان گرفتار

راولپنڈی: ٹک ٹاکر ایمان کے ساتھ بال کاٹنے اور تشدد کے کیس میں تین مرکزی ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، سالگرہ کی تقریب کے دوران ایمان کی بات چیت کو نظار خان کی اہلیہ نے سن لیا، جس کے بعد نظار خان اور دیگر ملزمان نے ایمان کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا اور اس کے بال کاٹ کر ویڈیو بھی بنائی۔
ایف آئی آر میں چار مرکزی ملزمان کے نام شامل ہیں: نظار خان عرف ارمان خان، انیس خان عرف دورانی، جلیل عرف مٹھو اور جبار خان، جن میں سے ایک ملزم خیبر پختونخوا فرار ہو گیا ہے۔ دیگر ملوث لڑکیاں بھی روپوش ہیں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر تنویر سپرا نے گرفتار ملزمان کے لیے چار مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں جبکہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے 3 ملزمان زیر حراست ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے ملزمان کے موبائل فونز کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کر لیا ہے۔
واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ نصیر آباد میں درج کیا گیا ہے، جہاں سالگرہ کی تقریب میں شامل ثنا نامی لڑکی، دیگر چار لڑکیاں اور چار لڑکے بھی تلاش میں ہیں۔ پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر دیگر ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں کیں لیکن ابھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی ایمان کو اس کی سہیلی ثنا وغیرہ نے اس کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی زیادہ ریچ کی وجہ سے سالگرہ کی تقریب میں بلایا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں