ہمیں حیرت تو نہیں ہونی چاہیے۔ موسمیاتی سفارت کاری کے تیس برسوں کا حاصل آج بھی وہی پرانے وعدے، وہی ادھورے عزم، وہی مبہم بیانیے اور وہی غیر سنجیدگی ہے جس نے پوری دنیا کو ایک ایسے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے جہاں خاموشی خود ایک جرم بن چکی ہے۔ بیلم میں ہونے والی 30 ویں عالمی موسمیاتی کانفرنس تو جیسے ایک رسمی عمل بن کر رہ گئی۔ اقوام متحدہ نے ’’انتہائی کمزور نتائج‘‘ کی جو کھلی تنقید کی، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے سربراہان پالیسیوں میں اتنے پیچھے رہ چکے ہیں کہ اب سائنس اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ ایک گہری کھائی بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے واضح کہا کہ آج کی بے عملی کو مستقبل میں ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ان کے الفاظ مبالغہ نہیں، آنے والی نسلوں کی بقا کا نوحہ ہیں۔اس کے باوجود یہ کانفرنس بالکل بے فائدہ بھی نہیں تھی۔ کچھ پیش رفت ہوئی، کچھ راستے کھلے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ راستے حقیقی اقدامات کی طرف جائیں گے یا پھر دنیا کے طاقتور ملک ایک بار پھر وعدوں کے بوجھ تلے عملی کمزوریوں کو چھپا دیں گے؟بیلم کانفرنس اس حیران کن سیاسی ماحول میں ہوئی جہاں دنیا کی دو بڑی طاقتوں نے مختلف سمتوں میں اشارے دیے۔ امریکہ مذاکرات سے غیر حاضر رہا اور چین نے عندیہ دیا کہ اس کے اخراجات شاید اپنی بلند ترین سطح کو پہنچ چکے ہیں۔ سو سے زائد ممالک نے نئے موسمیاتی منصوبے جمع کرائے، یہ خوش آئند تھا۔ مگر پھر بھی درجہ حرارت میں اضافہ 1.5 درجے تک محدود رکھنے کا ہدف دور ہی دور دکھائی دیا۔ یہ چھوٹے چھوٹے قدم اس بڑے بحران کے مقابلے میں کمزور محسوس ہوتے ہیں جو کرۂ ارض کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔برازیل کی صدارت میں کانفرنس کو ’’منصوبہ ساز کانفرنس‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا، یعنی یہاں فیصلے نہیں بلکہ نقشے بنائے جائیں گے۔ عملی حقیقت یہ ہے کہ نہ تو ایندھن کے خاتمے پر اتفاق ہوا، نہ ہی ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی امداد کی مقدار طے ہو سکی۔ اس کے باوجود کچھ تکنیکی پالیسی اقدامات سامنے آئے۔ جنگلات، سمندروں اور ماحولیاتی نظام کو قومی موسمیاتی منصوبوں میں شامل کرنے کے لیے ’’بیلم ایکشن میکنزم‘‘ اور ’’بلو این ڈی سی چیلنج‘‘ جیسے نئے طریقے سامنے آئے۔ پہلی بار موسمیاتی تبدیلی کو عالمی تجارت سے جوڑا گیا، یہ مان لیا گیا کہ صنعتوں اور ترسیلی نظام کو بدلنے کے بغیر کاربن میں کمی ممکن نہیں۔مگر یہ سب کچھ اس بڑے خلا کو نہیں بھر سکتا جو کانفرنس کے آخری دن تک اپنی جگہ موجود رہا: ایندھن کے خاتمے پر مکمل خاموشی، موافقت (ایڈاپٹیشن) کی پیمائش کے لیے کمزور اشارے، اور مالیاتی رہنمائی کا مسلسل فقدان۔ یہ وہ خلا ہے جس پر اقوام متحدہ نے شدید ناقدانہ رد عمل دیا۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال کہیں زیادہ شدید ہے۔ دنیا بھلے آہستہ چلے، پاکستان کے پاس وقت نہیں۔ ملک دوسری موسمیاتی منصوبہ بندی تیار کر رہا ہے، مگر ابھی تک عالمی مالیاتی دروازے سخت شرائط کے بغیر نہیں کھلتے۔ پاکستان نے صرف رواں برس شدید گرمی کی لہر، پانی کی قلت، اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے زخموں کا سامنا کیا۔ ملک کی لاکھوں بستیاں، کھیت، سڑکیں، پل اور گھروں کے ملبے اب بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان مستقبل کے موسمیاتی بحران کا سب سے پہلا ہدف ہے۔عالمی اداروں نے 2035 تک موافقت کی مالی امداد تین گنا بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، مگر پاکستان کے لیے یہ بہت کم اور بہت دیر سے ہے۔ جب تک یہ پیسہ حقیقت میں پاکستان تک نہیں پہنچتا اور جب تک اس کے استعمال کے لیے ملکی نظام شفاف، مضبوط اور اثر انگیز نہیں بنتا، یہ سارے وعدے محض کاغذی رہ جائیں گے۔پاکستان کے اندر کئی بنیادی کمزوریاں موجود ہیں:— موسمیاتی اعداد و شمار کا نظام غیر مکمل ہے،— حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ کمزور ہے،— منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو مرکزی حیثیت نہیں ملتی،— انفراسٹرکچر موسمیاتی شدت کا مقابلہ نہیں کر سکتا،— زرعی زمینیں حد سے زیادہ دباؤ برداشت کر رہی ہیں،— پانی کا نظام پرانا، خستہ حال اور غیر منصفانہ ہے۔یہ وہ مسائل ہیں جنہیں دنیا کی کوئی بھی مالی امداد بغیر اندرونی اصلاحات کے حل نہیں کر سکتی۔بیلم کانفرنس نے دنیا کو ایک حقیقت سے روشناس کرایا: موسمیاتی تبدیلی اب محض سائنسی مسئلہ نہیں، معاشی، سیاسی، تجارتی، سماجی اور سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگر دنیا 1.5 درجے کا ہدف کھو دیتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان ان ملکوں کو ہوگا جو پہلے ہی معاشی کمزوری اور آبادی کے دباؤ سے دبے ہوئے ہیں۔پاکستان انہی ملکوں میں سرِ فہرست ہے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ موسمیاتی بحران صرف بیرونی امداد سے حل نہیں ہوگا۔ پاکستان کو اپنی رفتار خود تیز کرنا ہوگی۔ چند سالوں سے پاکستان کا رویہ ’’سانحہ آجے تو ٹھیک کریں گے‘‘ والا رہا ہے۔ مگر اب یہ رویہ مزید تباہی کو دعوت دے گا۔ مستقبل ہمیں بار بار نہیں چیتھڑے گا، اس بار ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دفاعی پوزیشن میں رہیں گے یا موسمیاتی تبدیلی کے سامنے خود کو محفوظ بنانے کے لیے مضبوط اقدامات اٹھائیں گے۔اس کے لیے چند بنیادی چیزیں ناگزیر ہیں:— سیلابی علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کا مکمل خاتمہ،— دریا کے راستوں کی بحالی،— شہروں کے نکاسی کے نظام کی ازسرِنو تعمیر،— جنگلات کی بحالی اور بڑے پیمانے پر شجرکاری،— زرعی نظام میں پانی کے مؤثر استعمال،— موسمیاتی تعلیم اور مقامی سطح پر کمیٹیاں،— توانائی کے نظام کو آلودگی سے پاک ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کرنا،— اور سب سے اہم: حکومتی اداروں میں مربوط منصوبہ بندی۔اگر حکومت ان تبدیلیوں کی طرف مائل نہیں ہوتی تو پھر دنیا کی کسی کانفرنس سے پاکستان کو فائدہ نہیں پہنچے گا—چاہے وہ بیلم ہو یا شامی الاؤ کے نام پر ہونے والے آئندہ وعدے۔بیلم کانفرنس نے دنیا کو وہی بات دوبارہ یاد دلائی: روڈ میپ بنانا آسان ہے، عمل کرنا مشکل۔ آج دنیا کے پاس منصوبوں کا کالخانہ موجود ہے، مگر عمل کا ذخیرہ خالی ہے۔ پاکستان کے پاس بھی کئی پالیسی مسودے ہیں، مگر حقیقت میں عمل بہت کم ہے۔موسمیاتی بحران میں وقت ہی سب سے قیمتی اثاثہ ہے، اور پاکستان ہر گزرتے دن اسے کھو رہا ہے۔اب فیصلہ یہ ہے کہ ہم صرف عالمی کانفرنسوں کی خوش فہمی پر زندہ رہیں گے، یا اپنی بقا کے لیے عملی میدان میں قدم رکھیں گے۔ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ اُس وقت جیتی جائے گی جب لفظ نہیں، عمل بولے گا۔ اور پاکستان کے پاس اس جنگ کو جیتنے کے لیے اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔






