3 ماہ سے 50 سے زائد صنعتی یونٹس کی چیکنگ، ایف بی آر نے چھاپوں کا تاثر غلط قرار دے دیا

ملتان (جنرل رپورٹر ) ایف بی آر نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران ٹیکس سسٹم میں شفافیت لانے کیلئے50 سے زائد صنعتی یونٹوں کا ریکارڈ چیک کیا لیکن روٹین کی اس کارروائی کو کسی بھی صنعتی یونٹ پر ٹیکس چوری کا الزام لگانا اور چھاپے کا تاثر دینا درست عمل نہیں، ترجمان ایف بی آر۔ تفصیل کے مطابق ترجمان ایف بی آر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ریجنل ٹیکس آفس ملتان اور لارج ٹیکس پیئر ملتان نے گزشتہ 3 ماہ کے دوران ٹیکس سسٹم میں شفافیت لانے کیلئے 50 سے زائد صنعتی یونٹوں کا ریکارڈ حاصل کیا اور ان کی جانچ پڑتال کی کہ کہیں کسی ٹیکس یونٹ میں بے ضابطگی تو نہیں پائی گئی۔ یہ ایف بی آر کی طرف سے ایک روٹین کی کارروائی ہے جو پورے پاکستان میں وقتاً فوقتاً کی جاتی رہتی ہے صرف ایک ہفتے کے دوران 7 بڑے صنعتی یونٹوں کا ریکارڈ حاصل کیا گیا اور اس کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے اس لئے اس روٹین کی کارروائی کو کسی صنعتی یونٹ کے خلاف ٹیکس چوری کا الزام لگانا اور کسی صنعتی یونٹ پر چھاپے کا تاثر دینا سراسر غلط ہے اور نہ ہی ایف بی آر نے جن صنعتی یونٹوں کا ریکارڈ حاصل کیا ہے ان پر ٹیکس چوری کا الزام لگایا ہے۔ ایف بی آر کا صنعتی یونٹوں کا ریکارڈ حاصل کرنا ٹیکس سسٹم میں شفافیت لانا ہوتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں