ملتان(اشرف سعیدی سے)ضلع لودھراں میں رجسٹر ی کلرکوں نے رشوت کا طریقہ تبدیل کرلیا دن بھر کام شام کو گھر پر عرضی نویسوں کے ذریعے دن بھر کی کمائی کی ادائیگی پرانے رجسٹری کلرک چھٹی پر چلے گئے ضلع بھر میں بارہ ہزار رجسٹریوں کی سرکاری فیسوں میں اربوں کی کمی کا انکشافات آڈٹ کرنے والے بھی فرضی کاروائیاں کرتے رہے سب سے ،یادہ کرپشن بلاک کالونیوں کی رجسٹریوں میں کی گئی سب رجسٹرار اپنا حصہ لیکر غیر قانونی انتقلات پٹواریوں کے پاس اندراج کراتے قانونی کاروائیوں سے بچنے کیلیے پٹواری کی رپورٹ کو ،زیادہ اہمیت حاصل رہی جبکہ ڈی سی نزر انداز کیا گیا سکنی غیر سکنی اربن غیر اربن جدید اربن اور مورخ ایریا تعمیراتی فیس اور مربع کلہ نمبر تبدیل کر کے سرکاری فیسوں ں میں ھیر پھیر کیا گیا بتایا گیا ھے کہ سب سے زیادہ فراڈ تحصیل کہروڑ پکا میں ھوا سات غیر پاس شدہ بلاک کالونیوں دجسٹریاں کی گیں ان کا بھی عجیب طریقہ کار تھا پلاٹ کی لوکیشن نہیں اور اور انتقال رجسٹری کہیں اور لوکیشن پر کی گئی ۔تحصیل کہروڑ پکا میں کمرشل ایریا دجسٹریاں اس انداز سے کی گیئں کہ ففٹی پرسنٹ سرکاری فیسوں کی ادائیگی کا ایسا طریقہ اپنا یا گیا کہ کوئی اس کی پڑتال ۔ہیں کرسکتا یہ بھی پتہ چلا ہے تحصیلوں کے باہر سب رجسٹرار مخبر کھڑے کر دیئے ہیں جو کسی بھی انٹی کرپشن کی ٹیم کی آمد کی اطلاع دیتے ہیں ۔رشوت کا ریٹ پرانا مگر طریقہ تبدیل ھے اب درباری فیس موقعہ بجائے شام کو گھر پر ادا کی جاتی ھے اور تمام مک مکا بھی رجسٹری کلرک کے گھروں پر ھوتا ھے دفتر میں صرف روٹین بیکنگ اور سب رجسٹرار کے سامنے پیش ھوکر بیان دینا ھے رجسٹری کلرک اور سب رجسٹرار کے درمیان کوڈ ھے کہ آنے والے سائلوں متعلق پوچھنا کی جناب کلرک کہتا ھے چیک ھے جی اس کا مطلب ھے درباری فیس اوکے ھے رجسٹرار بیان لیکر دجسٹریاں پاس کرتے ہیں انٹی کرپشن کا خوف دروازے بند مین گیٹ بند اعتراضات ختم آج کا کام مل شام کو کو رجسٹری کلرک سب کچھ مکمل کرنے کے بعد اگلے روز خاموشی سے پاس کرو آکر مال کھرا کرنے میں کامیاب ھو جاتے ہیں ابھی تک اس شہر میں کوئی گرفتاری عمل میں ۔ہیں آئی پورا ضلع لودھراں میں خاموشی ھے۔







