غیر قانونی کمرشل تعمیرات، قوانین پامال، ایم ڈی اے کا نگرانی نظام فیل یا عملہ سہولت کار ؟

ملتان ( سپیشل رپورٹر) ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی شاہراہوں پر مبینہ غیر قانونی کمرشل تعمیرات نے ایم ڈی اے کے نگرانی کے نظام کا پول کھول دیا۔ ایم اے جناح روڈ، شجاع آباد روڈ، شاہ شمس پارک روڈ، رشید آباد چوک، بوسن روڈ اور ساتھ ایونیو روڈ سمیت مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر ایسی تعمیرات جاری ہیں جن کے نقشے کچھ اور جبکہ موقع پر تعمیراتی صورتحال کچھ اور دکھائی دیتی ہے، جبکہ بعض مقامات پر ذرائع کے مطابق مطلوبہ منظوری یا اجازت نامہ سرے سے موجود ہی نہیںسوال یہ ہے کہ اگر افسران اپنے دفاتر میں بیٹھ کر سب کچھ درست قرار دے رہے ہیں تو پھر شہر کی سڑکوں پر یہ ’’تعمیراتی چمتکار‘‘ کس کی اجازت سے ہو رہا ہےذرائع کے مطابق بعض پلازوں کے منظور شدہ نقشوں میں عمارت کی ساخت، منزلوں، استعمال اور دیگر تفصیلات کچھ اور ظاہر کی گئی ہیں، مگر موقع پر تعمیرات مبینہ طور پر ان نقشوں سے مختلف انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ کہیں اضافی منزلیں بننے کا معاملہ سامنے آتا ہے، کہیں نقشے کے برعکس کمرشل استعمال، جبکہ بعض مقامات پر مبینہ طور پر بنیادی منظوری ہی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہےسب سے سنگین سوال ایم ڈی اے کے مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ نظام پر اٹھتا ہے۔ اگر تعمیرات غیر قانونی ہیں تو متعلقہ افسران کو تعمیر شروع ہوتے ہی علم کیوں نہیں ہوتا؟ اور اگر علم ہے تو کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا ایم ڈی اے کی ٹیمیں صرف فائلوں اور کاغذات تک محدود ہو چکی ہیں یا شہر میں جاری تعمیرات کی زمینی نگرانی بھی کی جاتی ہےشہری حلقوں میں یہ تاثر بھی زور پکڑ رہا ہے کہ بعض معاملات میں افسران کی مبینہ لاعلمی کا فائدہ ماتحت عملہ اٹھا رہا ہے اور سرکاری اختیار کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی بھی افسر یا ملازم کے خلاف الزام کو باقاعدہ تحقیقات کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہےغیر قانونی تعمیرات کا یہ سلسلہ صرف شہری حسن اور ٹریفک کے مسائل تک محدود نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے ممکنہ نقصان کا بھی خدشہ ہے۔ اگر کسی عمارت کی تعمیر منظور شدہ نقشے، کمرشلائزیشن یا دیگر قانونی تقاضوں کے بغیر یا خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری ہے تو سرکاری فیس، جرمانوں اور دیگر واجبات کی وصولی بھی متاثر ہوتی ہے۔ساتھ ایونیو روڈ بھی سوالیہ نشان بن گیاساتھ ایونیو روڈ پر بھی مبینہ طور پر ایسی تعمیرات اور کمرشل سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن کے بارے میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ آیا وہ مکمل طور پر منظور شدہ نقشوں اور قانونی اجازتوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔ یہاں بھی اصل امتحان ایم ڈی اے کے افسران کا ہے کہ وہ کاغذی ریکارڈ نہیں بلکہ موقع پر جا کر حقیقت سامنے لائیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایم ڈی اے تمام مذکورہ شاہراہوں پر زیر تعمیر اور حالیہ عرصے میں مکمل ہونے والے پلازوں کا فزیکل سروے کرائے، ہر عمارت کا منظور شدہ نقشہ موقع کی تعمیر سے ملایا جائے اور جہاں نقشہ اور تعمیر میں فرق ہو وہاں فوری قانونی کارروائی کی جائےبڑا سوال: افسران لاعلم یا آنکھیں بندشہریوں کا کہنا ہے کہ ایک عام شہری اگر تعمیراتی قوانین کی معمولی خلاف ورزی کرے تو اسے نوٹس، جرمانے اور دیگر کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر بڑے کمرشل منصوبوں میں کئی کئی منزلیں تعمیر ہونے تک متعلقہ ادارے کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہےایم ڈی اے حکام کو واضح کرنا ہوگا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی اجازت کس نے دی؟ نقشے سے ہٹ کر تعمیرات روکنے کا ذمہ دار کون ہے؟ کتنے پلازوں کے خلاف کارروائی ہوئی؟ کتنے جرمانے وصول کیے گئے؟ اور قومی خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا ذمہ دار کون ہےشہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، اینٹی کرپشن اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملتان میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا خصوصی فرانزک آڈٹ اور انکوائری کرائی جائے، ایم ڈی اے کے متعلقہ افسران و اہلکاروں سے ریکارڈ طلب کیا جائے اور اگر کسی سطح پر ملی بھگت، غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا سوال سادہ ہے: اگر نقشے کچھ اور اور عمارتیں کچھ اور ہیں تو پھر قانون کس کے لیے ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں