ملتان (سٹاف رپورٹر) ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں بدعنوانی، اقربا پروری اور مالی بے ضابطگیوں کے تہہ در تہہ سکینڈلز سامنے آنے کا سلسلہ نہ رک سکا۔ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ پنجاب کی رپورٹ نے جہاں ایڈیشنل چارج پر رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر جیسے اہم عہدوں پر طویل عرصے تک غیر قانونی تعیناتیوں کا بھانڈا پھوڑا، وہیں روزنامہ قوم کی مسلسل نشاندہی کے باوجود یہ عمل بدستور جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق نئے آنے والے وائس چانسلرز بھی انہی بااثر افراد کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں، جو انہیں’’رام‘‘کر کے اپنی پوزیشن مضبوط رکھتے ہیں۔ آڈٹ پیرا نمبر 2024-0000004886_F00015 نے ایک اور سنگین مالی بے ضابطگی بے نقاب کر دی ہےجس کے مطابق یونیورسٹی کے سرکاری فنڈز سے رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر اور ایک لیکچرر کے ذاتی پی ٹی سی ایل بلز ادا کیے جاتے رہے۔ ریکارڈ کی جانچ پڑتال (2017 تا 2024) کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ 2017 سے 2021 تک ذاتی ٹیلی فون اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے گئے۔ مزید برآں 1 لاکھ 16 ہزار 902 روپے کی رقم ٹیلی فون اخراجات کے ہیڈ سے نکال کر مختلف ہوٹلوں کے بلز کی ادائیگی میں استعمال کی گئی جس کے ثبوت بھی آڈٹ کے پاس موجود ہیں۔ آڈٹ حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مالی قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ پنجاب فنانشل رولز اور ایم این ایس یو ای ٹی ایکٹ 2014 کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے جس کے تحت خزانچی پر لازم ہے کہ وہ فنڈز کو صرف مقررہ مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اس بے ضابطگی کی بنیادی وجہ کمزور مالی و انتظامی کنٹرول ہے اور ذمہ داران سے رقم کی فوری ریکوری اور وضاحت طلب کی جانی چاہیے۔ آڈٹ نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ اس معاملے کو مجاز اتھارٹی سے ریگولرائز کرانے کے ساتھ ساتھ اندرونی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کیا جائے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض چند مالی بے ضابطگیاں نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک ہے، جہاں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مخصوص افراد کو فائدہ پہنچایا گیا۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور سپریم کورٹ کی واضح ہدایات (کیس نمبر 7/24، مورخہ 24 اکتوبر 2024) کے باوجود 6 ماہ سے زائد ایڈیشنل چارج دینا نہ صرف توہین عدالت کے مترادف ہے بلکہ تعلیمی نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ دستاویزات کے مطابق یونیورسٹی میں قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ہی افسر کو 6 ماہ کی مقررہ حد کے برعکس 10 ماہ سے لے کر 84 ماہ تک اضافی چارج دیا جاتا رہا۔ ان غیر قانونی تعیناتیوں کے نتیجے میں نہ صرف میرٹ کا قتل ہوا بلکہ قومی خزانے کو بھی لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کم از کم 21 لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگی سامنے آئی ہے جبکہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حیران کن طور پر اس پورے عمل کے دوران نہ تو نئی بھرتیوں کے لیے کوئی شفاف طریقہ کار اپنایا گیا اور نہ ہی متعلقہ حکام کو کوئی تسلی بخش جواز فراہم کیا گیا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عاصم عمر گزشتہ 14 سال سے عارضی رجسٹرار کے طور پر تعینات ہیں، حالانکہ اس دوران 9 وائس چانسلرز تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے انتظامی اور مبینہ غیر قانونی تجربے کو بنیاد بنا کر سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ کی مبینہ ملی بھگت سے خود کو ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بعد ازاں پروفیسر کے عہدے پر ترقی دلوائی، جسے ساؤتھ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری اپنی انکوائری میں غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے اپنے بھائی کامران عمر کو بھی مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے بھرتی کروایا، جن کے خلاف جعلی فیس واؤچرز کے ذریعے ذاتی اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کے شواہد موجود ہیں۔







