بد ترین لوڈ شیڈنگ، عوام بلبلا اُٹھے، حکومت کی معذرت، پاور ڈویژن کا بجلی کم استعمال کرنیکا مشورہ-بد ترین لوڈ شیڈنگ، عوام بلبلا اُٹھے، حکومت کی معذرت، پاور ڈویژن کا بجلی کم استعمال کرنیکا مشورہ-شعبہ کپاس تباہ، 40 اقسام تیار کرنیوالے ادارے سی سی آر آئی ملتان کو خطرہ، جِمخانہ میں بدلنے کی سازش-شعبہ کپاس تباہ، 40 اقسام تیار کرنیوالے ادارے سی سی آر آئی ملتان کو خطرہ، جِمخانہ میں بدلنے کی سازش-پی ایچ ڈی، ایم فل وائیوا، تھیسز سے مینو چیک، کھانا کلچر تعلیمی نظام کا مذاق، طلبہ مجبور-پی ایچ ڈی، ایم فل وائیوا، تھیسز سے مینو چیک، کھانا کلچر تعلیمی نظام کا مذاق، طلبہ مجبور-ویمن یونیورسٹی ملتان کو عارضی وائس چانسلر مل گئی، ڈاکٹر عُظمیٰ قریشی تعینات، بہتری کی امید-ویمن یونیورسٹی ملتان کو عارضی وائس چانسلر مل گئی، ڈاکٹر عُظمیٰ قریشی تعینات، بہتری کی امید-صادق ویمن یونیورسٹی: قوم کی خبر پر ایکشن، ذاتی اکاؤنٹس میں فنڈز جمع کرنے پر پابندی-صادق ویمن یونیورسٹی: قوم کی خبر پر ایکشن، ذاتی اکاؤنٹس میں فنڈز جمع کرنے پر پابندی

تازہ ترین

پی ایچ ڈی، ایم فل وائیوا، تھیسز سے مینو چیک، کھانا کلچر تعلیمی نظام کا مذاق، طلبہ مجبور

ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے نام پر ایک ایسا’’غیر اعلانیہ کلچر‘‘ جڑ پکڑ چکا ہے جس نے علمی معیار کو پسِ پشت ڈال کر طلبہ پر مالی بوجھ ڈالنے کی روایت کو معمول بنا دیا ہے۔ ایک سینئر پروفیسر کے چونکا دینے والے انٹرویو نے اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ پی ایچ ڈی اور ایم فل کے وائیوا اب تحقیق کی بنیاد پر نہیں بلکہ ’’کھانوں اور مہمان نوازی‘‘ کے پیمانے پر بھی ناپے جانے لگے ہیں۔پروفیسر کے مطابق پاکستان میں عمومی طور پر یہ رواج بن چکا ہے کہ جب کسی طالب علم کا پی ایچ ڈی یا ایم فل کا وائیوا ہوتا ہے تو تمام اخراجات بشمول ایگزا منرز، اساتذہ اور دیگر مہمانوں کی ضیافت طالب علم کے ذمے ڈال د ی جاتی ہے۔ بعض کیسز میں تو طلبہ سے پیشگی رقم تک وصول کی جاتی ہے اور پھر اعلیٰ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں پرتکلف کھانے کروائے جاتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طالب علم اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرنے پر مجبور ہوتا ہےکیونکہ اسے خدشہ ہوتا ہے کہ اگر اس نے ’’خاطر تواضع‘‘نہ کی تو اس کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک اخلاقی بحران کی نشاندہی بھی کرتی ہے جہاں علم کے بجائے’’مہمان نوازی‘‘ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اسی پروفیسر نے بیرونِ ملک اپنے پی ایچ ڈی وائیوا کا تجربہ بیان کرتے ہوئے ایک بالکل مختلف تصویر پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں نہ تو طالب علم سے کسی قسم کے اخراجات کا تقاضا کیا گیا اور نہ ہی کھانے کے حوالے سے کوئی دباؤ تھا۔ وائیوا مکمل ہونے کے بعد یونیورسٹی کی طرف سے باقاعدہ واؤچر کے ذریعے ایک سادہ کھانے کا انتظام کیا گیا جس میں صرف متعلقہ افراد شریک ہوئے اور تمام اخراجات ادارے نے خود برداشت کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہاں کسی طالب علم پر یہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا کہ وہ اساتذہ کو مہنگے ریسٹورنٹس میں کھانا کھلائے۔ اصل فوکس تحقیق اور علمی معیار پر ہوتا ہے، نہ کہ کھانے کی میز پر۔پروفیسر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انہوں نے خود بطور سپروائزر کبھی کسی طالب علم سے ایک روپیہ تک نہیں لیا بلکہ کئی مواقع پر خود اپنے خرچ پر طلبہ کی میزبانی کی کیونکہ ان کے نزدیک استاد کا کام رہنمائی کرنا ہے، مالی بوجھ ڈالنا نہیں۔ یہ انکشافات ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا پاکستان میں پی ایچ ڈی اور ایم فل کے وائیوا واقعی میرٹ اور تحقیق کی بنیاد پر ہوتے ہیں یا پھر ایک غیر رسمی “کھانا کلچر” نے اس عمل کو متاثر کر دیا ہے؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو نہ صرف مستحق طلبہ کا استحصال جاری رہے گا بلکہ ڈگریوں کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ اہم سوالات جو اس پورے نظام پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں

  1. میرا PhD کا اوپن ڈیفنس ’’کھانوں‘‘پر کتنا خرچ آیا ؟
  2. پاکستان میں جب Mphil یا PhD کا Viva ہوتا ہے کھانوں پر کتنا خرچ آتا ہے ؟
  3. پاکستان میں ایک PhD کا Viva طالب علم کو کتنے کا پڑتا ہے ؟
  4. سپر وائزرز کو کھانے میں کیا پیش کیا جائے کہ وہ خوش ہوجائے ؟
  5. کتنی ڈشز کا استعمال آپ کے Viva کو کامیاب بنا سکتا ہے ؟
  6. بیف ، چکن یا مٹن کون سی ڈش طالب علم کو آرڈر کرنی چاہیے ؟
  7. میٹھے میں کیا آرڈر ہونا چاہیے ؟
  8. بریانی یا فرائیڈ رائس یا کچھ اور ؟
  9. خالی ہائی ٹی پر اساتذہ کو مدعو کرنے والے طالب علموں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟
  10. طالب علم ہوٹل / ریسٹورنٹ کا انتخاب کیسے کریں ؟
    کیا واقعی پی ایچ ڈی کا وائیوا علمی معیار پر ہوتا ہے… یا پھر ’’کھانے‘‘اس کا نیا پیمانہ بن چکے ہیں؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں