ملتان (میاں غفار سے)پاکستان میں کپاس کا شعبہ گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل اور گہرے زوال کا شکار رہا ہے۔ اس تنزلی کے پس منظر میں جہاں پالیسی سازی سے جڑے سرکاری ادارے، محکمہ زراعت، وفاقی و صوبائی زرعی ڈھانچے، پیسٹی سائیڈ کارٹل، سیڈ کمپنیوں اور زرعی یونیورسٹیوں کے مختلف حلقوں کی مشترکہ مفاداتی حکمت عملی کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، وہیں کپاس سے وابستہ تحقیقی ادارے بھی بتدریج کمزور کئے جاتے رہے۔ اس پورے عرصے میں جہاں بعض مخصوص فیصلے سازوں کو مراعات اور انعامات ملتے رہےوہیں تحقیق، ترقی اور پیداوار سے جڑے ادارے کمزور ہوتے گئے۔ نتیجتاً کپاس کی مجموعی پیداواری صلاحیت اور تحقیقی نظام بری طرح متاثر ہوا، جس کے تباہ کن اثرات آج واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر خالد عبداللہ کے بطور کاٹن کمشنر اور نائب صدر پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی چھ سالہ دورِ میں کپاس کے شعبے اور متعلقہ اداروں کو دانستہ شدید نقصان پہنچایا گیا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد انہیں انعام کے طور پر ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک معروف نجی پیسٹی سائیڈ کمپنی کی جانب سے پانچ لاکھ روپے ماہانہ کی ملازمت فراہم کی گئی جسے بعض حلقے ان کی’’مخصوص پیشہ ورانہ خدمات‘‘کے اعتراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ملتان میں کپاس کے حوالے سے عالمی سطح پر اپنی منفرد شناخت رکھنے والا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی) بھی اس زوال سے محفوظ نہ رہ سکا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو کبھی کپاس کے بیجوں کی تحقیق، ترقی اور نئی اقسام کے تعارف میں نمایاں مقام رکھتا تھا، تاہم اب اسے مختلف انتظامی، مالی اور مبینہ مفادات کے دباؤ کے باعث سنگین چیلنجز کا سامنا ہے حتیٰ کہ اس کے مستقبل اور وجود سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں جس کے لیے بعض حلقے راہ ہموار کر رہے ہیں ۔یہ 100 ایکڑ پر مشتمل ادارہ اپنے قیام سے اب تک 40 سے زائد کپاس کی اقسام کاشتکاروں کو فراہم کر چکا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں اس ادارے کی جانب سے متعدد اہم اقسام متعارف کرائی گئیں، جن میں بی ٹی سی آئی ایم 678، بی ٹی سی آئی ایم 785، بی ٹی سائٹو 533، بی ٹی سائٹو 535، سائٹو 226، بی ٹی سی آئی ایم 343، بی ٹی سی آئی ایم 537، بی ٹی سائٹو 547، بی ٹی سی آئی ایم 775، بی ٹی سائٹو 511 اور بی ٹی سی آئی ایم 990 شامل ہیں۔ یہ اقسام بہتر پیداواری صلاحیت اور موسمی و حیاتیاتی دباؤ کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے نمایاں سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں گرمی اور خشک سالی کو برداشت کرنے کی صلاحیت جبکہ گرم موسم میں پھل گرنے کے مسئلے کے خلاف بہتر تحفظ بھی شامل ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے بجٹ میں مسلسل کمی اور انتظامی دباؤ کے باعث اس ادارے کی تحقیقی استعداد متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ملک میں کپاس کا رقبہ تقریباً 50 لاکھ ایکڑ رہا، تاہم پیداوار صرف 56 لاکھ گانٹھوں تک محدود رہی کہ 13 من ایکڑ رہی ہے ۔ اس کے برعکس 2004-05 میں پیداوار ایک کروڑ 48 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ چکی تھی اور اس دور میں فی ایکڑ پیداوار 40 من فی ایکڑ تک بھی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اسی طرح 1992 اور 2014-15 میں کپاس کی بمپر کراپس ریکارڈ کی گئیں جن میں 2014-15 کے دوران پیداوار ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھ رہی۔ مزید اعداد و شمار کے مطابق مختلف ادوار میں فی ایکڑ پیداوار 40 من تک بھی ریکارڈ کی گئی جو تنزلی کا شکار ہوتے ہوتے 13 من فی ایکڑ پر آ گئی ہے جو کپاس کے شعبے میں تشویشناک تنزلی کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق اس ملک کی اشرافیہ اب سی سی آر آئی کی چار دیواری کے اندر موجود 100 ایکڑ اراضی کو ملتان جم خانہ میں تبدیل کرنے کے لیے پر تول رہی ہے اور بعض سہولت کار اس حوالے سے راہ ہموار کرنے کی خاطر سی سی آر آئی کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔







