ملتان (وقائع نگار)وفاقی حکومت نے ملک بھر میں توقع سے زائد لوڈشیڈنگ پر بجلی صارفین سے معذرت کرلی اور اس کی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی کو قرار دیا ہے۔پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پانی کی کم دستیابی کے باعث پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں اضافی لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔ترجمان نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ خصوصاً رات کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں احتیاط کریں اور توانائی بچانے کی عادات اپنائیں۔بیان کے مطابق گزشتہ روز ملک کے مختلف علاقوں سے غیر معمولی لوڈشیڈنگ کی شکایات سامنے آئیں، حالانکہ ایک روز قبل صرف 2.25 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عندیہ دیا گیا تھا۔وزارت توانائی کے مطابق رات کے پیک آورز میں پن بجلی کی پیداوار میں 1991 میگاواٹ کمی واقع ہوئی، جس کے باعث مجموعی شارٹ فال تقریباً 4500 میگاواٹ تک پہنچ گیا، جبکہ بجلی کی طلب 18000 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈیمز سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی صوبوں کو پانی کی فراہمی طلب کے مطابق کر رہی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کے باعث پانی کی ضرورت کم ہونے سے ڈیمز سے اخراج بھی محدود رہا۔پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت لوڈ مینجمنٹ زیادہ تر رات کے اوقات تک محدود ہے اور دن کے وقت بجلی کی قلت نہیں ہے، تاہم بعض تقسیم کار کمپنیوں، خصوصاً اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے صبح کے اوقات میں 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان بھی کیا ہے۔حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیمز سے پانی کے اخراج میں اضافے سے پن بجلی کی پیداوار بہتر ہوگی، جبکہ ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس کی دستیابی میں بہتری سے بھی بجلی کی صورتحال میں استحکام آنے کا امکان ہے۔دوسری جانب پاکستان میں انرجی کرائسز عروج پر آر ایل این جی کی کمی سے پاور پلانٹس بند، 4000 سے 5000 میگاواٹ شارٹ فال، شہروں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ صرف لوڈشیڈنگ کا معاملہ نہیں بلکہ مکمل انرجی کرائسز ہے۔ آر ایل این جی کی شدید کمی کی وجہ سے ملک بھر کے کئی بڑے پاور پلانٹس جزوی یا مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر آر ایل این جی پر چلنے والے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس اپنی مکمل استعداد پر نہیں چل رہے، جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (969 میگاواٹ) پہلے ہی بند پڑا ہے۔رات کے وقت جب سولر سسٹم بند ہو جاتا ہے تو بجلی کی طلب میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہےلیکن سسٹم میں سپلائی ناکافی ہونے کی وجہ سے تقریباً 4000 سے 5000 میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہو گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور، ملتان، سرگودھا، گجرات، راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔دوسری جانب ملک بھر میں جاری غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی گئی۔لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر کی گئی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مہنگی بجلی کے باوجود شہریوں کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، شہریوں کو بلاامتیاز بجلی کی فراہمی نہیں کی جا رہی، لوڈشیڈنگ سے شہریوں کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت شہریوں کو بلا امتیاز بجلی کی فراہمی کا حکم دے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے احکامات جاری کرے۔
ملتان،رحیم یارخان،ڈیرہ غازی خان،راجن پور،ٹاٹے پور،اوچشریف ،چھب کلاں،چوک سرورشہید،بوریوالا،جتوئی (وقائع نگار) بیورورپورٹ ،ڈسٹرکٹ رپورٹر،ڈپٹی بیوروچیف،نمائندہ خصوصی،سٹی رپورٹر،کرائم رپورٹر،جنرل رپورٹر،نامہ نگار)ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھرمیں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کاسکون غارت کردیا۔کاروباری سرگرمیاں معطل،کارخانے،فیکٹریاں بند،بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا۔تفصیل کے مطابق ملتان سے وقائع نگارکے مطابق ملتان سمیت ملک بھرمیں لوڈشیڈنگ نے جینادوبھرکردیا۔ملتان کے شہری علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں بارہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جانے لگی ہے، لائن لاسز والے فیڈرز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ میں مزید 2 گھنٹے اضافہ کر دیا گیا، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔میپکو حکام کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 500 میگا واٹ سے تجاوز کر گیا ہے، میپکو کو ایک کروڑ 10 لاکھ صارفین کے لئے 2000 میگا واٹ بجلی درکار ہے، شارٹ فال بڑھنے کے باعث حکومت کے دیئے گئے شیڈول پر عملدرآمد کرنا مشکل ہے۔رحیم یارخان سےبیورورپورٹ اورنمائندہ خصوصی کے مطابقمشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال،ایل این جی کی سپلائی رک گئی،ملک بھر میں بجلی کا بحران پیدا ہوگیا،ضلع رحیم یارخان سمیت پورے جنوبی پنجاب میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سےکاروباری زندگی تباہ ،انڈسٹریل اسٹیٹ متاثر،فیکٹری ،کارخانے بند ہونا شروع ہوگئے،غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا،شہری تلملااٹھے،ڈیرہ غازی خان سےڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق لوڈ شیڈنگ سے کاروباری سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔ شہریوں، تاجروں، بزرگوں، خواتین اور بچوں سبھی نے اس غیر اعلانیہ بجلی بحران کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔راجن پور سےڈپٹی بیورو چیف کے مطابق راجن پور،جام پور،روجہان، مٹھن کوٹ فاضل پور،عمرکوٹ،حاجی پور میں حالیہ دنوں میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے سر اٹھا لیا ۔ٹاٹےپور سےنامہ نگارکے مطابق ٹاٹے پور میں بدترین لوڈشیڈنگ سے شہری اذیت کا شکارہیں۔ راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب لوٹھڑ فیڈر پر بھی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے جس کے خلاف شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اوچ شریف سےسٹی رپورٹر،کرائم رپورٹراورجنرل رپورٹرکے مطابق پاور ڈوثرن کے واضح احکامات صرف سوا دو گھنٹہ بجلی بندش نوٹیفکیشن کے باوجود خود ساختہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ میں اضافہ کر دیا گیا۔ ایک گھنٹے بعد دو، دو گھنٹے بجلی غائب ہونے کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہو گئے جبکہ کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔چھب کلاں سےکرائم رپورٹر کے مطابق غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے گھروں اور مساجد میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔چوک سرور شہید سے نامہ نگار کے مطابق 8 سے 14 گھنٹے تک بجلی کی غیر اعلانیہ بندش سے جہاں عام شہری اور امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ ذہنی اذیت کا شکار ہیں، وہاں مچھروں کی یلغار کے باعث بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔بورے والاسےنامہ نگار کے مطابق لوڈشیڈنگ نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ۔دیہی علاقوں میں فصلیں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ جانوروں کو پانی کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، خصوصاً شدید گرمی کے باعث یہ مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔جتوئی سےکرائم رپورٹرکے مطابق بجلی کی طویل بندش نے عوام کو ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیا ۔شہریوں شاہد رضا ڈیدھ، رانا طاہر شہزاد، مہر فیصل سانبھل،عامر خان، چوہدری مجاہد، سجاد اسلم اور کامران ببلو ،ملک شوکت ملانہ،ملک ساجد اعوان ،عبدالغفور خان چانڈیہ ،سجاد مان،عبدالغفار گجر،ملک ارشد جھوڑر ،رانا رفیق بھٹی،مصطفیٰ وینس جٹ،ڈاکٹر ظفر رانجھا ،افضل گورائیہ ودیگرنے حکومت پاکستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔







