ملتان،اسلام آباد(نیوز رپورٹر، بیورو رپورٹ) آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد اور حکومت کے مذاکرات میں ایک سال تک ٹول ٹیکس نہ بڑھانےکا اصولی فیصلہ ہوگیا۔ٹرانسپورٹرز ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں ایک سال تک ٹول ٹیکس نہ بڑھانےکا اصولی فیصلہ ہوگیا ہے، ٹول ٹیکس کے حالیہ اضافے میں کچھ کمی کا بھی فیصلہ کر لیاگیا۔ٹرانسپورٹرز ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک ہفتے یا 15 دن تک نہ بڑھانے پربھی اتفاق ہوگیا ہے۔یاد رہےکہ اس سے قبل صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا ڈیڈ لاک ختم کرنےکے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کرے، ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں لیکن مطالبات پر واضح پیشرفت ضروری ہے۔ادھرآل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد گروپ اور پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری پہیہ جام ہڑتال پانچویں روز میں داخل ہوگئی جبکہ پیر کے روز حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہونے کے بعد بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کے اعلان کے باعث ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہونے لگی ہے، جس سے ادویات، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی ممکنہ قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔جنرل سیکرٹری گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد گروپ ملتان آفتاب احمد شیخ کے مطابق کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے مختلف شہروں تک مال کی ترسیل رکنے کے باعث درآمدی و برآمدی تجارت بھی دباؤ کا شکار ہے۔ بالخصوص ایکسپورٹ کوالٹی کے مال کی کراچی بندرگاہ تک بروقت ترسیل نہ ہونے سے برآمدی آرڈرز متاثر ہونے، کنسائنمنٹس منسوخ ہونے اور ملکی زرمبادلہ کی آمد میں کمی کے خدشات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ہڑتال کا دائرہ طویل ہونے کی صورت میں اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ منڈیوں، ملز، فیکٹریوں، مارکیٹوں، پلازوں اور بازاروں تک پہنچنے کا امکان ہے۔ خام مال اور تیار مال کی ترسیل رکنے سے صنعتی یونٹس میں پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں، جبکہ منڈیوں میں سبزی، پھل، اناج اور دیگر اشیائے خورونوش کی سپلائی متاثر ہونے سے طلب اور رسد کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے باعث فیکٹریوں سے تیار ہونے والا مال مارکیٹوں تک نہیں پہنچ پا رہا جبکہ مارکیٹوں اور صنعتی اداروں کو بھی مطلوبہ خام مال کی بروقت فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی طرح گوداموں میں موجود مال کی ترسیل رکنے سے کاروباری سرگرمیوں کا پہیہ سست پڑنے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب ہڑتال کے باعث ممکنہ قلت اور سپلائی میں تعطل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خور عناصر کے متحرک ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جو مصنوعی قلت پیدا کرکے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس صورتحال میں انتظامیہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ منڈیوں اور مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر نگرانی یقینی بنائے۔ اس صورتحال پر تاجرحلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ہڑتال مزید طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات کاروباری سرگرمیوں، صنعتی پیداوار، برآمدات اور عام صارف تک پہنچ سکتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار رہنے کی صورت میں سپلائی چین کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔تاجر برادری نے حکومت اور ٹرانسپورٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے قابل قبول حل نکالیں تاکہ مال بردار گاڑیوں کی روانی بحال ہو، صنعتوں اور مارکیٹوں کو خام مال و تیار مال کی ترسیل شروع ہوسکے اور عام شہری کو ممکنہ قلت اور مہنگائی کے نئے دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔دوسری جانب پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبات کی منظوری کیلئے حکومت کو 72 گھنٹےکا الٹی میٹم دے دیا۔چیئرمین ایسوسی ایشن نےکہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ رد و بدل کاروبار پر اثرانداز ہو رہا ہے۔چیئرمین ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ڈیلرز مارجن 8 فیصد کیا جائے، ساتھ ہی الٹی میٹم دیا کہ 72 گھنٹے میں حکومت نہیں سنتی تو پٹرول پمپس بند کردیں گے۔







