ڈائریکٹو ریٹ کالجز لاہور کا انفارمیشن کمیشن کو دھوکا، کچے ڈرافٹس بطور سرکاری دستاویزات پیش

لاہور( بیورو رپورٹ)ڈائریکٹوریٹ آف کالجز لاہور کی ایک بڑی جعل سازی منظر عام پر آئی ہے کہ سرکاری محکموں میں عوام کی طرح کیسے سرکاری ادارے سے بھی دھوکا دہی کی جا رہی ہے۔ ای فوس سسٹم اس طریقہ کار کو کہتے ہیں جس کے ذریعے ایک میسج بھیج کر پہلے متعلقہ ادارے کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کو آن لائن ڈاکومنٹ بھیجا جا رہا۔ اس اطلاع کے بعد کسی بھی لیٹر کے ساتھ آن لائن ڈاکومنٹس بھیج دیئے جاتے ہیں مگر ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن لاہور نے کچے ڈرافٹ کو دکھا کر انفارمیشن کمیشن کو دھوکا دے دیا اور ڈرافٹ کے مسودے کو ہی ڈرافٹ ظاہر کر دیا جو کہ غیر منظور شدہ تھا۔ اس طرح درست اور حقائق پر مبنی معلومات چھپانے کے لیے ڈائریکٹر آفس کے عملے کا تاریخوں میں تبدیلی کا فراڈ بے نقاب ہو گیا۔ فیصلہ 3 ستمبر کو ہوا مگر ریکارڈ میں تبدیلی کرکے 7 ستمبر کے کمپیوٹرائزڈ ٹمپرڈ کچے کاغذات بنا کر فائل کا حصہ بنا کر انفارمیشن کمیشن کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش بے نقاب ہو گئی۔ ایک ذمہ دار کے توجہ دلانے پر پنجاب انفارمیشن کمیشن کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت دائر اپیل پر گمراہ کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں آنکھیں بند کر کے ہیرا پھیری سے پیش کرنے کا یہ گھنائونا سکینڈل سامنے آ گیا۔ ڈائریکٹوریٹ آف لاہور کالجز (ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) کی جانب سے قانون کے مطابق حقائق پر مبنی معلومات فراہم کرنے سے بچنے کے لیے لاہور کے کمشنر آفس کو باقاعدہ دھوکے میں رکھنے کی کوشش کی گئی تھی جس میں ڈائریکٹر آفس کے عملے سے ایک ایسی احمقانہ غلطی ہو گئی ہے جس کا اب محکمے کے پاس کوئی قانونی دفاع موجود نہیں۔ اندرونی ذرائع کے مطابق کمیشن کی جانب سے 3 ستمبر کو ایک اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کیا گیا جبکہ ڈائریکٹر آفس نے بڑی ہوشیاری سے اسے سرکاری فیصلے کے ریکارڈ کا حصہ بنوانے کے لیے جو تبدیل شدہ دستاویزات پیش کیں وہ 7 ستمبر کو کمپیوٹر سسٹم سے نکالی گئی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک کالج پروفیسر نے پنجاب رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف کالجز لاہور سے بعض اہم دستاویزات اور معلومات طلب کی تھیں۔ قانونی مدت کے دوران معلومات نہ ملنے پر پنجاب انفارمیشن کمیشن میں اپیل دائر کی گئی۔ کمیشن کی طرف سے بار بار کی یاددہانی پر ڈائریکٹر آفس لاہور کالجز نے ایک باقاعدہ، تصدیق شدہ اور نمبر شمار والے سرکاری خط کے بجائے E-FOAS (Electronic Filing and Office Automation System) سے نکالے گئے دو کچے ڈرافٹ جمع کروا کر کمیشن کو چکردیدیا۔ ان ڈرافٹس پر نہ تو کوئی ڈائری یا لیٹر نمبر درج ہے اور نہ ہی یہ کچے ڈرافٹ سسٹم سے فائنل اپروو ہوئے تھے۔ انفارمیشن کمیشن کے قریبی ذرائع نے ڈائریکٹر آفس کی اس جعل سازی کا باقاعدہ دستاویزی ثبوت پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ دونوں کچے ڈرافٹ، جن میں سے ایک کمیشن کے نام اور دوسرا پروفیسر کے نام پر تیار کیا گیا۔ ان ڈرافٹس کے ہر صفحے کے اوپر اور نیچے سسٹم کے ورک فلو اور کمپیوٹر یو آر ایل (URL) کا مکمل ایڈریس جسے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، کے آخری صفحے کے درمیان میں موجود واٹر مارک میں یوزر آئی ڈی، سسٹم کا آئی پی ایڈریس (IP Address)، تاریخ اور وقت بھی درج تھا جس سے سارا کھیل بے نقاب ہو گیا۔ دستاویزی ثبوت بتاتے ہیں کہ ڈائریکٹر آفس کے عملے نے یہ دونوں کچے ڈرافٹ رات 10 بج کر 27 منٹ پر صرف 19 منٹ کے وقفے سے نکالے اور ان پر کمپیوٹر جنریٹڈ تاریخ 7 ستمبر درج ہے۔ اب اس صورتحال میں سب سے بڑا قانونی اور اخلاقی سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا کہ اگر یہ کاغذات ڈائریکٹر آفس کے سسٹم میں “پروسیسنگ” کی حالت میں تھے اور 7 ستمبر کی رات کو پرنٹ کیے گئےتو ڈائریکٹر آفس نے 4 دن پہلے یعنی 3 ستمبر کو ہی ان غیر موجود کاغذات کا جھانسہ دے کر کمیشن سے کیس کیسے نمٹوا لیا؟ محکمے نے اتنی صفائی سے کمیشن کو دھوکادیا کہ کمشنر آفس بھی اس باریک تکنیکی جعل سازی کو فوری طور پر بھانپنے میں ناکام ہو گیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت پنجاب کی اپنی واضح ہدایات اور معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کی مروجہ ہدایات کے مطابق کوئی بھی آفیشل لیٹر اس وقت تک وجود میں ہی نہیں آ سکتا جب تک اس پر باقاعدہ ڈائری اور ڈسپیچ نمبر جاری نہ ہو جائے۔ اس کے بغیر وہ صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جس کی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کی اس سنگین ہیرا پھیری اور تاریخوں کے کھلے تضاد کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پنجاب انفارمیشن کمیشن اس بوگس اور غیر قانونی کارروائی پر ملوث ڈائریکٹر آفس کے افسران کے خلاف کیا ایکشن لیتے ہیں۔ دوسری طرف یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن جو خود ایک سو سے زائد کالجز کے انتظامی معاملات کو دیکھتے ہیں، کیا وہ اپنے ماتحت کالجز کو بھی اسی طرح کے کچے ڈرافٹس اور تاریخوں کے ہیر پھیر سے دھوکے میں رکھتے ہیں؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں