پنجاب کی گندم سندھ، بلوچستان سمگل، آٹے کے بحران کا خطرہ شدت اختیار کر گیا

رحیم یار خان (بیورو رپورٹ)پنجاب کی گندم سندھ اور بلوچستان میں اسمگل کئے جانے کا انکشاف، آٹے کا بحران پیدا ہونے کے خدشات منڈلانے لگے،سندھ اور بلوچستان کے بڑے بیوپاریوں کے غلہ منڈیوں اور فلور ملرز گارڈ فادرز کے دفتروں میں ڈیرے ڈال لئے،فلور ملرز اور آڑھتیوں نے 3000روپے من کے خریدکرکے سٹاک کی گندم 5000 روپے من کے حساب سے بین الصوبائی فروخت شروع کردی،پنجاب سے 5ہزار روپے من کے حساب سے خرید کی جانیوالی گندم 15ہزار جبکہ کوئٹہ میں16ہزار روپے فی من کے حساب فروخت ہونے لگی،فلور ملرز گارڈ فادرز نے محکمہ خوراک،پیرا فورس،سیف سٹی اتھارٹی سمیت قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے مبینہ “انڈر ٹیبل”ڈیل کرلی،روزانہ کی بنیاد پر 10 سے زائد کنٹینرز تڑی پار کروائے جانے لگے۔تفصیل کے مطابق پنجاب سے سندھ اور بلوچستان گندم کی مبینہ غیر قانونی نقل و حمل کے باعث آئندہ دنوں میں آٹے کا بحران شدید ہونے کے خدشات منڈلانے لگے ہیں۔ کراچی میں 100 کلو گندم کے نرخ 15 ہزار روپے جبکہ کوئٹہ میں 16 ہزار روپے تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں، دوسری جانب رحیم یار خان کی مقامی مارکیٹ میں 40 کلو گندم کی قیمت 5200 روپے تک جا پہنچی ہے۔ گندم کی قیمتوں میں فرق کے باعث سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بیوپاریوں نے رحیم یار خان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، جبکہ شورکوٹ، پیرمحل، اوچ شریف، جلال پور پیر والا اور خانپور سمیت مختلف علاقوں سے بھاری مقدار میں گندم کنٹینرز کے ذریعے سندھ اور بلوچستان منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق موٹروے سمیت مختلف راستوں سے گندم کی ترسیل جاری ہے، جبکہ گندم اور آٹے کے پرمٹ کی مبینہ آڑ میں بھی اس کاروبار کے جاری رہنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے محکمہ خوراک پنجاب کی نگرانی اور گندم کی غیر قانونی نقل و حمل روکنے کے اقدامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کی جانب سے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ گندم کی نقل و حمل روکنے کے لیے تعینات بعض اہلکار اور مبینہ طور پر متعلقہ فوڈ انسپکٹرز فی کنٹینر 35 ہزار سے 50 ہزار روپے تک وصول کرکے گاڑیوں کو گزرنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ دوسری جانب مارکیٹ سے متعلق فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق کراچی پہنچنے پر گندم کی قیمت تقریباً 6000 روپے فی 40 کلو تک بتائی جا رہی ہے، جس سے رحیم یار خان اور کراچی کی منڈیوں کے درمیان تقریباً 800 روپے فی من اور فی بوری 100کلو 2000 کا فرق بنتا ہے۔ کاروباری حلقوں کے مطابق دوسرے صوبوں میں زیادہ نرخ ملنے کے باعث گندم کی ترسیل میں اضافہ مقامی مارکیٹ میں دستیابی کو متاثر کر سکتا ہے، گندم کی غیر قانونی نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور پرمٹ کے مبینہ غلط استعمال کی روک تھام نہ کی گئی تو نئی فصل آنے تک آٹے کی قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات دیہی علاقوں میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں آٹا چکی مالکان کی جانب سے پسائی کے خودساختہ نرخ مقرر کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض دیہی علاقوں میں فی 40 کلو گندم پسائی کے عوض 500 سے 600 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ شہریوں اور کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پسائی کے من مانے نرخ عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ خوراک اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل کی مؤثر نگرانی کی جائے، غیر قانونی ترسیل اور ذخیرہ اندوزی سے متعلق شکایات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت ثابت ہو تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں نے دیہی علاقوں میں قائم آٹا چکیوں کے پسائی نرخوں کا فوری نوٹس لینے، مناسب نرخ مقرر کرنے اور ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ گندم کی مقامی دستیابی برقرار رکھنے، آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکنے اور مہنگائی سے متاثرہ عوام کو مزید مالی مشکلات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔اس حوالے سے موقف کے لیے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر سید نیاز شاہ سے رابطہ کیا لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب وصول نہیں ہو سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں