ملتان(سٹاف رپورٹر)صوبائی محکمہ خوراک کو ختم کر کے اس کی جگہ نئی پرائس کنٹرول اینڈ کموڈٹیز مینجمنٹ اتھارٹی بنائے جانے کے بعد سے ایک مرتبہ پھر سبزی اور فروٹ کی طرح گندم اور دیگر اجناس بھی مڈل مین اور ذخیرہ اندوزوں کے براہ راست کنٹرول میں جانے کی شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور اس سال کی طرح آئندہ بھی کاشتکار کو گندم کی پوری قیمت ملنے کے امکانات محدود ہو گئے ہیں ۔رواں سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں اچانک حکومت پنجاب نے صوبہ بھر سے گندم نہ خریدنے کا اعلان کرتے ہوئے محکمہ خوراک کا نظام خریداری معطل کر دیا جس کے بعد 3900 روپے فی من سرکاری قیمت والی گندم ذخیرہ اندوزوں نے باہمی مشاورت سے 2200 روپے فی من خرید کر کاشت کار کو برباد کر دیا۔ سب سے زیادہ گندم ایل ڈی سی نامی غیر ملکی فرم نے خریدی جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کی پاکستان کے ایک کاروباری گھرانے سے پارٹنرشپ ہے۔ ایل ڈی سی نامی فرم نے صوبہ بھر میں بڑے بڑے گودام کرائے پر لے کر لاکھوں ٹن گندم 2200 سے 2250 روپے میں خرید کر مئی 2025 میں سٹاک کرنا شروع کی اور چار ماہ بعد وہی ذخیرہ گندم اب ایل ڈی سی نامی کمپنی 3200 روپے فی من فروخت کر کے ایک ہزار روپے فی من صرف چار ماہ میں ہی منافع کما رہی ہے۔ یاد رہے کہ سابق صدر ایوب خان کے دور میں بھی گندم پر زیادہ تر کنٹرول ذخیرہ اندوزوں کا تھا مگر انہوں نے بتدریج محکمہ خوراک کو مضبوط اور فعال کیا مگر گندم کے کاشتکار کو اصل تحفظ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دیا جب انہوں نے وفاقی سطح پر پاکستان ایگری کلچر سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو )بنا کر ملک بھر سے گندم خریدی اور پھر اس کی کے پی کے، گلگت اور دیگر علاقوں کے علاوہ ملک بھر میں سرکاری ریٹ پر سپلائی کا منظم طریقہ کار بنایا جو کہ 1974 سے لے کر 2024 تک 50 سال انتہائی کامیابی سے چلتا رہا ۔پنجاب کے کاشتکار کی گندم طے شدہ سرکاری ریٹ پر فروخت ہوتی ہے مگر 2025 میں اچانک پنجاب میں سرکاری خریداری بند کر دی گئی اور کاشتکار کی گندم ایک مرتبہ پھر ذخیرہ اندوزوں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے گندم خریدنہ کیے جانے کے اعلان کے ساتھ ہی شوگر انڈسٹری کے علاوہ غیر ملکی ذخیرہ اندوز بھی کاشتکار کو لوٹنے آگئے اور اس طرح 3900 روپے فی من والی سرکاری گندم کاشتکار سے ان ذخیرہ اندوزوں نے 2100 روپے من سے 2250 روپے من خرید کر سٹاک کر لی اور صرف چار ماہ بعد ہی ہزار روپے فی من منافع لے کر 3200 روپے پر فروخت کرنا شروع کر دی۔







