ملتان(نمائندہ خصوصی) ٹریفک اعلیٰ حکام کی ملتان سمیت پنجاب بھر میں ڈرائیورز کے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ
کے مطابق1114 سے زائد ڈرائیورز کا ریکارڈ تصدیق کے لیے بھجوایا گیاجن میں سے 347 ڈرائیورز کے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ان افراد کے خلاف ڈکیتی، چوری سمیت دیگر سنگین جرائم کے 579 مقدمات درج ہیںجس کے بعد جرائم میں ملوث ڈرائیورز کے خلاف کارروائی اور ان کے ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ڈرائیورز میں ایل ٹی وی لائسنس کے حامل 116 ڈرائیورز 33 فیصد کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ ایچ ٹی وی لائسنس رکھنے والے 87 ڈرائیورز 25 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران ایک ایسے ڈرائیور کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے جس کے خلاف 14 مقدمات درج ہیں۔ ان اعداد و شمار نے ڈرائیورز کے کوائف کی تصدیق اور ان کے سابقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ملتان میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور دیگر کمرشل ٹرانسپورٹ سے وابستہ ڈرائیورز کے کوائف کی مؤثر جانچ پڑتال کو شہریوں کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق مجرمانہ ریکارڈ کی تصدیق کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور سنگین مقدمات میں ملوث پائے جانے والے ڈرائیورز کے لائسنس معطل کرنے سمیت دیگر قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس عمل کا مقصد جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نگرانی بہتر بنانا اور شہریوں کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔







