پمپوں پر 5 روپے کی ڈیجیٹل واردات، پٹرول 400 روپے لیٹر، مفت ریلیف میں بھی مبینہ ہیر پھیر

ملتان(غلام دستگیرچوہان سے)شہر کے مختلف سرکاری و نجی پٹرول پمپس پر سرکاری نرخ سے زائد قیمت وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آگئی ہیں۔ شہریوں کا دعویٰ ہے کہ6اکتوبرکو پٹرول کی فی لیٹر قیمت395.11 روپےمقرر ہونے کے باوجود متعدد پمپس پر صارفین سے عملی طور پر 400 روپے فی لیٹرکے حساب سے رقم وصول کی گئی جس کے باعث ہر لیٹر پر تقریباً پانچ روپے کا فرق پیدا ہو اہے۔7اکتوبرکوبھی 400روپے لیٹرقیمت وصول کی گئی۔میٹر پر درج حساب بھی معاملے کی وضاحت کرتا ہے۔’’قوم‘‘ کوموصول تصویر میں 6اکتوبرکوسرکاری پٹرول پمپ کے ڈیجیٹل میٹر پر فی لیٹر نرخ 395.11 روپے، مقدار 0.50 لیٹر اور رقم 200 روپے واضح طور پر درج ہے۔ سرکاری نرخ395.11 روپے فی لیٹر کے حساب سے نصف لیٹر پٹرول کی قیمت تقریباً 197.56 روپے بنتی ہےجبکہ میٹر پر200 روپے درج ہیں۔ یوں 0.50 لیٹر کی مقدار کے حساب سے مؤثر قیمت400 روپے فی لیٹر بنتی ہے یعنی ظاہر کیے گئے 395.11 روپے کے نرخ سے تقریباً 4.89 روپے فی لیٹر زیادہ ہے۔شہریوں کے مطابق اگر یہی فرق پورے ایک لیٹر پر برقرار رہے تو صارف کو تقریباً پانچ روپے اضافی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپس پر رش، جلدی اور معمولی مقدار میں ایندھن ڈلوانے کے باعث بیشتر صارفین میٹر پر ظاہر ہونے والی مقدار، فی لیٹر نرخ اور مجموعی رقم کا باقاعدگی سے موازنہ نہیں کرتےجس کا مبینہ طور پر بعض پمپ مالکان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مختلف شہریوں نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں واقع سرکاری و نجی پٹرول پمپس سے پٹرول حاصل کیا تو کئی مقامات پر میٹر کے حساب سے رقم400 روپے فی لیٹر کے قریب بنتی محسوس ہوئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خصوصاً100 یا 200 روپے کا پٹرول موٹر سائیکلوں میں ڈلوانے والے صارفین اکثر میٹر کی ریڈنگ چیک نہیں کرتے۔شہریوں کے مطابق بظاہر معمولی نظر آنے والا چند روپے کا فرق اگر بڑی تعداد میں صارفین سے وصول کیا جائے تو مجموعی طور پر قابل ذکر رقم بن سکتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول پمپس پر سرکاری نرخ، میٹر ریڈنگ اور وصول کی جانے والی رقم کا موقع پر تقابلی جائزہ لیا جائے۔دوسری جانب شہریوں نے حکومت کی جانب سے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فراہم کیے جانے والے پٹرول ریلیف سے متعلق بھی شکایات سامنے لائی ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ بعض پٹرول پمپس پر اس مقصد کے لیے الگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جہاں مبینہ طور پر مقررہ مقدار سے کم پٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چونکہ انہیں پٹرول ریلیف کی شکل میں مل رہا ہوتا ہے، اس لیے بعض افراد مقدار اور میٹر کی ریڈنگ پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے مختلف پٹرول پمپس پراچانک چھاپے اور پیمائش کی جانچ کی جائے، ڈیجیٹل میٹروں کی درستگی چیک کی جائے اور سرکاری نرخ کے مطابق پٹرول کی فروخت یقینی بنائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی پٹرول پمپ پر سرکاری نرخ سے زائد رقم یا مقررہ مقدار سے کم پٹرول فراہم کرنے کی شکایت درست ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں