ملتان ( قوم ایجوکیشن سیل) روزنامہ’’ قوم‘‘ میں 21 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی خبر اور موضع شاہ پور، تحصیل شجاع آباد کے رہائشی محمد رمضان بلوچ کی شکایت پر ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کالجز ملتان ڈویژن نے گورنمنٹ گریجویٹ کالج شجاع آباد کے اسسٹنٹ پروفیسر اردو محمد بلال کے خلاف تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن کالجز ملتان ڈویژن کی جانب سے 23 ستمبر 2026 کو جاری آفس آرڈر کے مطابق کمیٹی کو معاملے کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ تین روز کے اندر متعلقہ دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گورنمنٹ گریجویٹ کالج دنیاپور ضلع لودھراں کے پرنسپل پروفیسر محمد شکیل کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہےجبکہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج ویمن جلالپور پیروالا کی پرنسپل مس گلناز طاہرہ اور گورنمنٹ ملت گریجویٹ کالج ممتازآباد ملتان کے ایسوسی ایٹ پروفیسر شماریات پروفیسر محمد قاسم رضا کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ آفس آرڈر میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی محمد رمضان بلوچ کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت اور متعلقہ معاملے کی مکمل جانچ کرے گی۔ ڈائریکٹوریٹ نے گورنمنٹ گریجویٹ کالج شجاع آباد کی انتظامیہ کو انکوائری کمیٹی کے ساتھ ضروری تعاون اور مکمل معاونت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ انکوائری کمیٹی اپنی رپورٹ مقررہ مدت میں ڈائریکٹر ایجوکیشن کالجز ملتان ڈویژن کو پیش کرے گی جس کے بعد شکایت اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہےکہ درخواست ایک سال سےزائد عرصہ سے محکمہ کو درخواست انکوائری کیلئے دی تھی جس پر محکمہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔روزنامہ قوم میں معاملہ ہائٹ لائٹ ہونے پر انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق بلال بھٹی بدستور اپنے گھناؤنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔واضح رہےکہ 21ستمبرکی اشاعت میں روزنامہ قوم نے گورنمنٹ گریجویٹ کالج شجاع آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر کی غیر اخلاقی سرگرمیوں، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کا انکشاف کیاتھا ۔ اس حوالے سے ایک شہری محمد رمضان بلوچ سکنہ موضع شاہ پورہ تحصیل شجاع آباد ضلع ملتان نے ڈائریکٹر کالجز ملتان ڈویژن کو تحریری درخواست دے کر معاملے کی فوری انکوائری اور ذمہ دار کے خلاف سخت کارروائی کی استدعا کی ہے۔درخواست کے مطابق ایک مہذب اور پاکستانی شہری ہونے کے ناطے یہ اس کا فرض ہے کہ جہاں کہیں اداروں میں رشوت خوری، بدعنوانی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کا علم ہو تو اس کے بارے میں اعلیٰ افسران کو آگاہ کرے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج بوائز شجاع آباد میں عرصہ تقریباً چار سال سے ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جس میں طلباء و طالبات کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، اسسٹنٹ پروفیسر محمد بلال بھٹی جو کہ ادارے میں اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، ان کے بارے میں شکایات سامنے آئی ہیں،درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کالج کے پرنسپل عاشق رضا نے انہیں بی ایس بلاک میں ایک مخصوص کمرہ دے رکھا ہے جسے مبینہ طور پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے شہری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چند سال قبل گورنمنٹ گریجویٹ کالج شجاع آباد میں اردو کی کلاسوں کا اجرا ہوا تھا۔ اس دوران محمد بلال بھٹی کو کالج میں طالبات کو اردو پڑھانے کے لیے مامور کیا گیا، اس وقت بھی ان کے طرز عمل سے متعلق شکایات سامنے آئیں، مذکورہ پروفیسر کو کچھ عرصہ کالج سے دور رکھنے کے لیے پابندی بھی عائد کی گئی لیکن بعد ازاں انہیں دوبارہ کالج آنے کی اجازت دے دی گئی،موجودہ کالج پرنسپل عذرا بی بی نے مذکورہ پروفیسر محمد بلال بھٹی کو گورنمنٹ گریجویٹ کالج میں آنے کی اجازت دی ہوئی ہےجبکہ شکایت کنندہ کے مطابق یہ معاملہ کالج کے نظم و ضبط اور طالبات کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کا ہے۔درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ پروفیسر کالج کے اوقاتِ کار کے دوران اور اوقات کے بعد بھی کالج میں آتے جاتے ہیں، گورنمنٹ گریجویٹ کالج شجاع آباد میں زیر تعلیم طالبات اور دیگر طالبات کے والدین کی جانب سے بھی اس حوالے سے شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔متعدد شکایات سامنے آنے کے باوجود متعلقہ پروفیسر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے معاملہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے گورنمنٹ گریجویٹ کالج شجاع آباد کے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ چیک کیا جائےجبکہ محمد بلال بھٹی کے بی ایس بلاک میں مبینہ طور پر مخصوص کمرے میں بیٹھنے اور کالج آنے جانے کے اوقات کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے، مذکورہ پروفیسر مبینہ طور پر طالبات کو کالج سے باہر اپنے مخصوص مقام تک لے جانے یا ان سے متعلق آمدورفت کے معاملات میں ملوث رہے ہیں جس کی حقیقت ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح کی جا سکتی ہے۔شکایت کنندہ نے ڈائریکٹر ایجوکیشن کالجز ملتان ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام معاملات کی غیر جانب دارانہ اور مکمل انکوائری کرائی جائے،سابق شکایات کا ریکارڈ طلب کیا جائے، کالج کا حاضری و آمدورفت ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قواعد و ضوابط کے تحت سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔







